تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 334
By Maulana Wahiduddin Khan
لِلَّهِ، وَآمَنُوا بِهِ وَصَدَّقُوهُ، وَعَرَفُوا مِنْهُ مَا كَانَ يُوصَفُ لَهُمْ فِي كِتَابِهِمْ مِنْ أَمْرِهِ، فَلَمَّا قَامُوا عَنْهُ اعْتَرَضَهُمْ أَبُو جَهْلِ بْنِ هِشَامٍ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالُوا لَهُمْ: خَيَّبَكُمُ اللَّهُ مِنْ رَكْبٍ! بَعَثَكُمْ مِنْ وَرَاءِكُمْ مِنْ أَهْلِ دِينِكُمْ تَرْتَدُونَ لَهُمْ لِتَأْتُوهُمْ بِخَبَرِ الرَّجُلِ، فَلَمْ تَطْمَئِنَّ مجالِسكم عِنْدَهُ، حَتَّى فارَفْتُمْ دِينَكُمْ وَصَدَّقْتُمُوهُ بِمَا قَالَ، مَا نَعْلَمُ رَكْبًا أَحْمَقَ مِنْكُمْ. أَوْ كَمَا قَالُوا. فَقَالُوا لَهُمْ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ، لَا نُجَاهِلُكُمْ، لَنَا مَا نَحْنُ عَلَيْهِ، وَلَكُمْ مَا أَنْتُمْ عليهِ، لم نَأْلُ أَنفُسَنَا خَيْرًا (سیرۃ ابن هشام، جلد 2، صفحہ 29)۔ اس واقعہ میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ کے پاس کچھ نصرانی لوگ حبش سے آئے تھے۔ انھوں نے آپ کی باتیں سنیں، پھر انھوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا۔ جب وہ رسول اللہ کی صحبت سے نکلے تو ان کی ملاقات ابو جہل سے ہوگئی۔ ابو جہل نے ان سے کہا کہ تم لوگ بہت احمق ہو، تم لوگوں نے اس شخص کی بات سنی، اور پھر اس کے مومن بن گئے۔ تم کچھ لوگوں کے نمائندہ بن کر آئے تھے، تم کو اس شخص کے بارے میں تحقیق کرنا چاہیے تھا اور جا کر اپنے لوگوں کو بتانا چاہیے تھا۔ انھوں نے جواب میں اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ قابلِ غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اعراض کا فلسفہ نہیں بتایا تھا۔ لیکن انھوں نے خود سے اعراض کے طریقے پر عمل کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان آدمی کے اندر ذہنی بیداری لاتا ہے، آدمی کے اندر وہ چیز پیدا کرتا ہے جس کو تخلیقی فکر (intellectual thinking) کہا جاتا ہے۔ رُجز سے اعراض مکہ کے ابتدائی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم اترا کہ لوگوں کے درمیان انذار کا کام کرو۔ اس سلسلے میں ایک مزید حکم دیا گیا: وَالرُّجْزَ فَاهْجُر (74:5)۔ یعنی، رجز کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader