Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 337

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ کوئی شخص جب اشتعال کی صورت پیش آنے پر بھڑک اٹھے تو وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک پست انسان ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی اشتعال کی صورت پیش آنے پر نہ بھڑک کے ۔ وہ ایسا کر کے یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ ایک بلند انسانی مرتبہ پر ہے۔ وہ صحیح معنوں میں اعلیٰ انسان کہے جانے کا مستحق ہے۔ نفرت، دہشت گردی نفرت (hate) اور دہشت گردی (terrorism) دونوں ایک ہی حقیقت کے دور رخ ہیں۔ نفرت، منفی سوچ کا نتیجہ ہے، اور دہشت گردی منفی عمل کا نتیجہ۔ نفرت منفعل دہشت گردی (passive terrorism) ہے، اور دہشت گردی عملی نفرت (terrorism in action) کا نام ہے۔ منفی سوچ داخلی طور پر نفرت ہے اور خارجی اعتبار سے دہشت گردی۔ نفسیاتی اعتبار سے دیکھیے تو جو لوگ نفرت کی باتیں کرتے ہیں، وہ زیادہ بڑے مجرم ہیں۔ کیوں کہ یہ لوگ نفرت کی بولی بول کر لوگوں کو مشتعل کرتے رہتے ہیں اور یہی اشتعال مزید بھڑک کر دہشت گردی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ منفی سوچ کیا ہے۔ منفی سوچ نفسیاتی ہلاکت کا دوسرا نام ہے۔ جو لوگ انسانوں کے اندر منفی سوچ پیدا کریں، وہ انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کیوں کہ منفی سوچ آدمی کے اندر تعمیری سوچ کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ ایسے لوگ سماج کے اندر معتدل مزاج کے ساتھ نہیں رہ سکتے، اور جن لوگوں کے اندر تعمیری سوچ اور معتدل مزاج نہ ہو، وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔ اور اگر وہ ترقی کریں گے تو منافق بن کر ترقی کریں گے، یعنی دل میں تو لوگوں کو برا سمجھنا لیکن ظاہری طور پر لوگوں کے ساتھ مفاہمت (adjustment) کر کے اُن سے مادی فائدہ اٹھانا۔ دہشت گردی بلا شبہ ایک بھیا نک برائی ہے، لیکن دہشت گردی کو گن اور بم کی طاقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page