تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 338
By Maulana Wahiduddin Khan
سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کا مؤثر طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے لوگوں کی منفی سوچ کو بدلنا اور ان کے اندر مثبت سوچ پیدا کرنا۔ جب تک لوگوں کے ذہن کو نہ بدلا جائے، دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ منفی سوچ ہمیشہ شکایتوں کو لے کر پیدا ہوتی ہے۔ لوگ ان شکایتوں کو کسی گروہ کی ”سازش“ سمجھ کر اُس گروہ کے خلاف ہو جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ شکایت، فطرت کے نظام کا حصہ ہے، شکایت کے اسباب کبھی ختم ہونے والے نہیں۔ اِس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ شکایت سے اوپر اٹھ کر سوچا جائے، شکایت کے باوجود لوگوں سے خیر خواہی اور ہمدردی کا تعلق قائم کیا جائے۔ فساد اور اسبابِ فساد کوئی فساد (riot) جب ہوتا ہے تو وہ اچانک نہیں ہوتا۔ ہر فساد سے پہلے اُس کے اسباب ظاہر ہوتے ہیں جو دھیرے دھیرے فساد بن جاتے ہیں۔ گویا کہ ہر فساد دراصل اسبابِ فساد کا نقطۂ انتہا (culmination) ہوتا ہے۔ اِس لیے فساد کے خلاف اصلاحی کوشش کا آغاز، ظہورِ فساد سے پہلے ہونا چاہیے، نہ کہ ظہورِ فساد کے بعد۔ اسلام میں نہی عن المنکر کا مطلب یہی ہے۔ نہی عن المنکر کا حکم اِسی لیے دیا گیا ہے کہ فساد سے پہلے اسبابِ فساد کو روکا جائے، تاکہ فساد کی نوبت نہ آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسبابِ فساد کو ختم کرنے کی کوشش کرنا، اصلاح ہے۔ اور فساد ہو جانے کے بعد متحرک ہونا صرف لیڈری ہے۔ جو لوگ اسبابِ فساد کے ظہور کے وقت خاموش رہیں اور جب عملاً فساد ہو جائے تو وہ جوش وخروش کے ساتھ حرکت میں آجائیں، ایسے لوگ خود بھی فساد انگیزی کے مجرم ہیں۔ اِس قسم کے لوگوں کو اصلاحِ فساد کا کریڈٹ (credit) نہیں مل سکتا۔ اصلاحِ فساد کا کام، فساد سے پہلے شروع ہوتا ہے، نہ کہ عملی طور پر فساد ہو جانے کے بعد۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader