Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ ان انعامات کے منعم (giver) کا اعتراف کرے۔ اس کے برعکس، جہاں اللہ کا اعتراف (شکر) نہ ہو، یقینی طور پر وہاں اللہ سے حقیقی تعلق بھی نہ ہوگا۔ انسان کے اندر اللہ کے شکر کا جذبہ کیسے پیدا ہوتا ہے۔ وہ تدبر وفکر سے پیدا ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کو اپنے وجود سے لے کر لائف سپورٹ سسٹم (life support system) تک جو چیزیں ملی ہیں، وہ سب کا سب اللہ کا یک طرفہ عطیہ ہیں۔ اس دریافت کے بعد انسان کے اندر اپنے منعم حقیقی کے لیے اعتراف (acknowledgement) کا جذبہ ابھرتا ہے۔ اللہ رب العالمین کے اسی اعتراف کا مذہی نام ’شکر‘ ہے۔ تعلق باللہ فقہی یا قانونی حکم کے طور پر کسی کے اندر پیدا نہیں ہوتا، بلکہ وہ دریافت کے نتیجے کے طور پر پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہو کہ بندے کے اندر ڈسکوری کے درجے میں اللہ سے تعلق پیدا ہو تو اس کے بعد اپنے آپ اس کے نتائج ظاہر ہوں گے، اس کی سوچ میں تعلق باللہ کی جھلک دکھائی دے گی۔ تعلق باللہ کا ایک ظاہر ہ شکر ہے۔ اور جب اس قسم کا شکر کسی کو حاصل ہو جائے تو فطری طور پر اس کے اندر غور وفکر کا مزاج پیدا ہوتا ہے، یعنی وہ ہمیشہ اللہ رب العالمین کے بارے میں غور وفکر کرتا رہے۔ معرفت اسی غور وفکر کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے دین میں تدبر یا غور وفکر کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ حکمت اور شکر قرآن کی سورہ لقمان کی ایک آیت یہ ہے: وَلَقَدْ آتَيْنَا لُقْمَانَ الْحِكْمَةَ أَنِ اشْكُرْ لِلَّهِ ۚ وَمَنْ يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ كَفَرَ فَإِنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ (31:12)۔ یعنی، اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کرو۔ اور جو شخص شکر کرے گا تو وہ اپنے ہی لیے شکر کرے گا اور جو ناشکری کرے گا تو اللہ بے نیاز ہے، خوبیوں والا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شکر سے پہلے حکمت ضروری ہے۔ شکر بلاشبہ سب سے بڑی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page