حکمت اور شکر
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
عبادت ہے، لیکن صاحب شکر بننے سے پہلے ضروری ہے کہ آدمی صاحب حکمت بن چکا ہو۔ شکر اگر شکر ہے تو حکمت پری شکر (pre-shukr) کی حیثیت رکھتی ہے۔ شکر کی نسبت سے حکمت (wisdom) کی اہمیت یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے تحت زندگی میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ یہاں ناشکری کے اسباب موجود رہتے ہیں۔ کوئی انسانی معاشرہ کبھی شکایت، منفی سوچ اور ناخوشگوار تجربے سے خالی نہیں ہو سکتا۔ اس قسم کے حالات انسان کو نہایت آسانی سے ناشکر گزاری کی نفسیات میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس کا دماغ نفرت اور شکایت کے خیالات سے بھر جاتا ہے۔ ایسی حالت میں شکر کی نفسیات میں جینے کے لیے اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، جس کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔ حکمت آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ منفی حالات کے باوجود مثبت انداز میں سوچ سکے۔ شکایت کے اسباب کے باوجود وہ شکایت کا ذہن اپنے اندر نہ پیدا ہونے دے۔ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ اپنے آپ کو مشتعل ہونے سے بچائے۔ نا انصافی کا تجربہ ہونے کے باوجود وہ نا انصافی اور حق تلفی سے اوپر اٹھ کر سوچے ۔ اسی قسم کی اعلی سوچ کا نام حکمت ہے۔ جو لوگ اپنے اندر اس قسم کی اعلی سوچ پیدا کریں، انھیں کے لیے ایسا ممکن ہے کہ ان کے اندر حقیقی معنوں میں شکر کے جذبات پرورش پائیں۔ شکر کے لیے ایک تیار ذہن (prepared mind) درکار ہے۔ تیار ذہن کے بغیر شکر کی عبادت ممکن نہیں۔ شکر: ایک قربانی کا عمل شکر سب سے بڑی عبادت ہے۔ شکر جنت کی قیمت ہے۔ شکر کے بغیر ایمان نہیں۔ شکر کے بغیر سچی خدا پرستی نہیں۔ شکر کے بغیر آدمی اُن اعلی کیفیات کا تجربہ نہیں کر سکتا جس کو قرآن میں ربانیت (2:79) کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین داری کی اصل روح شکر ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader