Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 345

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا کرنے والا آج کے دن کو کھو کر، کل کے دن کو پال دیتا ہے اور جو ایسا نہ کرے، وہ آج کے دن کو بھی کھوئے گا اور کل کے دن کو بھی۔ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیش قدمی کا راستہ پچھلے مقام پر ہوتا ہے، مگر آدمی اُس کو اگلے مقام پر ڈھونڈنے لگتا ہے۔ حالاں کہ قانونِ فطرت کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مقامِ نزاع سے پیچھے ہٹنا، دانش مندی بھی ہے اور بہادری بھی۔ اس کے برعکس، مقامِ نزاع پر ٹکراؤ شروع کر دینا، نہ دانش مندی ہے اور نہ بہادری۔ رَدِّ عمل اسلام میں نہیں بہت سے لوگ جنگ اور تشدد میں مبتلا ہیں، انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی۔ اُن سے کہا جائے کہ تم یہ تباہ کن کام کیوں کر رہے ہو، تو وہ یہ جواب دیں گے کہ۔ یہ تو ایک فطری رَدِّ عمل ہے۔ جب کسی گروہ کے خلاف ظلم اور نا انصافی کا واقعہ پیش آئے گا، تو اس کے اندر ضرور جوابی رَدِّ عمل (reaction) پیدا ہوگا۔ وہ گن اور بم استعمال کرے گا۔ یہاں تک کہ آخر کار وہ خود کش بم باری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کرے گا۔ اگر ہمارے متشددانہ رَدِّ عمل کو ختم کرنا ہے، تو فریقِ ثانی کی طرف سے کیے جانے والے ظلم اور نا انصافی کو ختم کرنا ہوگا، ورنہ ہماری طرف سے متشددانہ کارروائیوں کا سلسلہ برابر جاری رہے گا۔ رَدِّ عمل (reaction) کو ختم کرنا ہے تو پہلے عمل (action) کو ختم کیجیے۔ اس معاملے میں یک طرفہ نصیحت سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ رَدِّ عمل کا یہ فلسفہ سراسر غیر فطری ہے۔ ایسے لوگوں کی اصل غلطی یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ذہنوں میں عمل کا غلط معیار قائم کر لیا ہے۔ عمل کا صحیح معیار یہ ہے کہ عمل کے بعد پیش آنے والے نتیجہ (result) کو دیکھا جائے۔ صحیح عمل کی پہچان یہ ہے کہ وہ عمل کرنے والوں کے لیے مفید نتیجہ پیدا کرے ۔ جو عمل مفید نتیجہ پیدا نہ کرے، وہ سرے سے قابلِ ترک ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page