تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 344
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اعتبار سے وہ ایک گناہ کا کام ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں وہ تطفیف (83:1) ہے۔ اور قرآن کے مطابق، جو لوگ تطفیف کا عمل کریں ، اُن کے لیے قانونِ الہی میں صرف ویل مقدر ہے، نہ کہ کوئی خیر۔ مقامِ نزاع سے پیچھے ہٹنا تجربہ بتاتا ہے کہ جب دو فریقوں کے درمیان کسی مسئلے پر نزاع پیدا ہو جائے تو آگے جانے کا راستہ ہمیشہ بند ہو جاتا ہے۔ البتہ پیچھے لوٹنے کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ایسے موقع پر آگے بڑھنے کی کوشش کرنا ، صرف اپنے نقصان میں اضافہ کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر آدمی کے لیے صرف ایک ہی چوائس باقی رہتا ہے، اور وہ یوٹرن (U-Turn) کا چوائس ہے، یعنی پیچھے کی طرف لوٹ جانا۔ ایسے موقع پر پیچھے کی طرف لوٹنے کا مطلب پسپائی نہیں ، بلکہ یہ تدبیر کا ایک معاملہ ہے۔ یہ پیچھے ہٹ کر دوبارہ آگے بڑھنے کی ایک تدبیر ہے۔ عقل مند آدمی ہمیشہ ایسے موقع پر یوٹرن کا چوائس لیتا ہے۔ مثال کے طور پر 1799 ء میں سلطان ٹیپو اور انگریزوں کے درمیان نزاع پیدا ہوئی ۔ سلطان ٹیپو نے یوٹرن کا چوائس نہیں لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پوری سلطنت تباہ ہو گئی۔ اس کے برعکس ، حیدر آباد کی مسلم ریاست نے اسی طرح کی صورتِ حال میں ، انگریزوں کے مقابلے میں یوٹرن کا چوائس لے لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سو سال تک کامیابی کے ساتھ باقی رہی۔ عقل مند انسان وہ ہے جونزاع کی صورتِ حال کو تجربہ کے خانے میں ڈالے ۔ وہ نتیجہ (result) کی بنیاد پر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ وہ اپنے جذبات کو اپنا رہ نما نہ بنائے، بلکہ عملی حالات کی بنیاد پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ وہ پیچھے کی طرف مارچ کرنے کو بھی اتنا ہی اہم سمجھے، جتنا کہ اس سے پہلے وہ آگے کی طرف مارچ کو اہم سمجھے ہوئے تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader