تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 347
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں آنا چاہیے۔ کیوں کہ اس کا منفی نعرہ لوگوں کو بھڑکائے گا اور آخر کار، سماج کا وہ حال ہو جائے گا، جیسے ایک مقام پر بہت سے آتش گیر مادّے ہوں اور وہ اچانک بھڑک اٹھیں۔ قائد پر لازم ہے کہ اگر اس کے پاس محبت کا نعرہ ہے، تب تو وہ اپنی تحریک لے کر سماج میں آئے۔ اور اگر اُس کے پاس صرف نفرت اور شکایت کی باتیں ہوں ، تو اس کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اجتماعی تحریک ہرگز نہ شروع کرے۔ اس کے بجائے، وہ اپنے آپ کو اپنے گھر کے اندر محصور کر لے۔ یہی اس کے نجات کی واحد صورت ہے۔ اجتماعی تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں ـــــ مثبت تحریک، اور منفی تحریک۔ مثبت تحریک وہ ہے جو ذاتی ذمّے داری (duty) کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔ ایسی تحریک ایک صالح تحریک ہے۔ منفی تحریک وہ ہے جو حقوق طلبی اور احتجاج کی بنیاد پر اٹھائی جائے۔ ایسی تحریک ایک غیر صالح تحریک ہے۔ صالح تحریک کا نتیجہ ہمیشہ اچھا نکلتا ہے، اور غیر صالح تحریک ہمیشہ بُرے انجام پر ختم ہوتی ہے۔ مبنی بر نظام یا مبنی بر نفرت اسلام کے لیے نظام (system) کی اصطلاح ایک نئی اصطلاح ہے۔ یہ اصطلاح بیسویں صدی عیسوی میں کچھ مسلم رہنمائوں نے ایجاد کی۔ شاہ ولی اللہ دہلوی (وفات 1762ء) نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں ”فَکُّ کُلِّ نظام‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لیکن اس جملے میں یقینی طور پر نظام سے مراد اسلامی نظام نہیں ہے۔ اس میں لفظ ’نظام‘ کو اس کے عمومی معنیٰ میں استعمال کیا گیا ہے۔ اسی تصور کو اقبال نے اپنے ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے: گفتند جہان ما، آیا بتومی سازد گفتم کہ نمی سازد، گفتند کہ برہم زن اسلام کی تعبیر نظام سے کرنا کوئی سادہ بات نہیں، یہ دراصل ایک سنگین انحراف کے ہم معنیٰ ہے۔ جب آپ کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسلام کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader