تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 348
By Maulana Wahiduddin Khan
اتباع جس طرح عقیدہ اور عبادت اور اخلاق کے معاملے میں کرنا ہے، اسی طرح اس کا اتباع قانون اور سیاست کے معاملے میں بھی لازماً کرنا ہے۔ مگر یہ بریکٹ کوئی سادہ بریکٹ نہیں۔ کیوں کہ عقیدہ اور عبادت اور اخلاق کے معاملے میں اسلام کا اتباع ایک شخص صرف اپنے ذاتی فیصلے کے تحت کر سکتا ہے۔ لیکن قانون اور سیاسی اقتدار کے معاملے میں اسلام کا اتباع اول دن ہی سے ٹکراؤ کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ کیوں کہ سیاسی اقتدار ہمیشہ کسی کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اور اسلام کو ”کامل نظام“ کے طور پر نافذ کرنے والوں کے لیے لازم ہو جاتا ہے کہ وہ سیاسی حاکموں کو اقتدار سے بے دخل کریں اور ان کی جگہ مسلم اقتدار کو قائم کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی نظامی تعبیر، اسلام کی متشددانہ تعبیر کا خوب صورت نام ہے۔ اس تعبیر کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ ہوتا ہے کہ مفروضہ باطل پسندوں کے خلاف نفرت کا مزاج بنتا ہے، اُن کے خلاف تشدد کا کلچر وجود میں آتا ہے، دوسروں کے خلاف جارحیت کی فضا قائم ہوتی ہے اور آخر کار یہ معاملہ خودکش بم باری (suicide bombing) تک پہنچ جاتا ہے۔ اسلام کی نظامی تعبیر میں انتہا پسندی، نفرت، ٹکراؤ اور تشدد اس طرح شامل ہیں کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اختلاف کے وقت اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے۔ مختلف اسباب سے لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا رہتا ہے۔ جس طرح عام لوگوں کے درمیان اختلاف ہوتا ہے، اسی طرح مخلص اور مومن کے درمیان بھی اختلاف پیش آتا ہے۔ اختلاف کے ہونے کو روکا نہیں جاسکتا۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ اختلاف کے باوجود آدمی اپنے آپ کو صحیح رویہ پر قائم رکھے۔ مومن وہ ہے جو اختلاف کو نیت کا مسئلہ نہ بنائے۔ اختلاف کو اسی دائرہ تک محدود رکھے جہاں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ ایک معاملہ میں اختلاف کی وجہ سے کسی کو ہر معاملہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader