تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 349
By Maulana Wahiduddin Khan
غلط سمجھ لینا ، ایک معاملہ میں اختلاف پیش آنے کے بعد اس کو منافق ، بدنیتی اور غیر مخلص کہنے لگنا ، یہ سراسر غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اختلاف پیش آنے کے وقت تعلقات ختم کرنا صحیح نہیں۔ اختلافی مسئلہ پر سنجیدہ بحث جاری رکھتے ہوئے باہمی تعلقات کو بدستور قائم رکھنا چاہیے۔ اختلاف والے شخص سے سلام و کلام بند کرنا یا اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ دینا کسی بھی حال میں درست نہیں۔ موجودہ دنیا میں ہر چیز برائے امتحان ہوتی ہے۔ اسی طرح اختلاف بھی امتحان کے لیے ہے ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اختلاف کے وقت سخت محتاط رہے۔ وہ مسلسل کوشش کرے کہ اس سے کوئی ایسا غلط ردعمل ظاہر نہ ہو جو اللہ کو پسند نہیں۔ اختلاف کے وقت انصاف پر قائم رہنا بلا شبہ ایک مشکل کام ہے۔ مگر اس کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ اسلام میں ہر درست کام عبادت ہوتا ہے۔ یہ بھی ایک اعلیٰ عبادت ہے کہ اختلاف اور نزاع کی صورت پیش آنے کے باوجود آدمی اپنے دل کو دشمنی اور انتقام کی نفسیات سے بچائے، اختلاف کے باوجود وہ انصاف کی روش پر قائم رہے۔ اختلاف پیش آنا برا نہیں ، برا یہ ہے کہ اختلاف پیش آنے کے بعد آدمی امتحان میں پورا نہ اترے۔ اختلاف کے وقت تقویٰ کی حد میں رہنا عظیم اسلامی عمل ہے ، اور اختلاف کے وقت تقویٰ کی حد سے نکل جانا انتہائی سنگین قسم کا غیر اسلامی عمل۔ نفرت کی تیزاب مغرب کے ایک ماہر نفسیات کا قول ہے کہ نفرت کی مثال ایک قسم کی تیزاب کی سی ہے۔ ایک عام برتن میں اس کو رکھا جائے تو وہ اپنے برتن کو اس سے زیادہ نقصان پہنچائے گا جتنا اس کو جس پر وہ تیزاب ڈالا جانے والا ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader