ہجرِ جمیل
Urdu book, p. 352
By Maulana Wahiduddin Khan
اس آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو وہ اس طرح ہوگا: Endure patiently whatever they say, and avoid them in a decent manner. قرآن کی یہ آیت مکی دور میں اتری۔ اُس وقت مکہ میں مشرکین کا غلبہ تھا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ رسول اور اصحابِ رسول نے اُن کے آبائی دین سے انحراف کیا ہے۔ اس بنا پر وہ لوگ رسول اور اصحابِ رسول کو ستانے لگے۔ انہوں نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو ہر قسم کی تکلیفیں پہنچائیں۔ اس ماحول میں قرآن کی یہ آیت اتری۔ اس میں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ صبر کرو اور ہجرِ جمیل کا طریقہ اختیار کرو۔ ہجرِ جمیل کے لفظی معنی ہیں ــــ خوبصورتی کے ساتھ چھوڑنا یعنی حسنِ اعراض۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ستانے والوں کے ساتھ حسنِ اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ ان کے معاملہ میں تمہارا طریقہ منفی ردِ عمل کا طریقہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ مثبت ردِ عمل کا طریقہ ہونا چاہیے۔ تم کو چاہیے کہ اُن کے معاملہ میں درگزر کرو، اور اُن کے برے انداز کے مقابلہ میں تم اُن کے ساتھ اچھا انداز اختیار کرو۔ مفسرین نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ صبر اور ہجرِ جمیل کا یہ حکم آیاتِ قتال کے نزول کے بعد منسوخ ہو گیا۔ مگر یہ ایک غلط تفسیر ہے۔ ہجرِ جمیل (حسن اعراض) کوئی مجبوری کا فعل نہیں ہے، یہ اہلِ ایمان کا ایک مثبت رویہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن منفی ردِ عمل کا تحمل نہیں کر سکتا۔ شکایت کی نفسیات شکر کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن یک طرفہ طور پر شکایت کے جذبات کو ختم کرتا ہے تا کہ اُس کے اندر شکر کا جذبہ مجروح نہ ہونے پائے۔ اسی طرح نفرت کی نفسیات محبت کے جذبہ کی قاتل ہے اس لیے مومن نفرت کی نفسیات کو اپنے اندر پنپنے نہیں دیتا تا کہ اُس کے اندر محبتِ الہی کا جذبہ پوری طرح باقی رہے۔ اس کام کو کبھی سختی سے کرنا پڑتا ہے اور کبھی حسن تدبیر سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader