ہجرِ جمیل
Urdu book, p. 353
By Maulana Wahiduddin Khan
ہجر جمیل (حسن اعراض) بظاہر دوسرے کے مقابلہ میں ہوتا ہے مگر اُس کا تعلق خود اپنی ذات سے ہے۔ مومن آخری حد تک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے اندر اعلیٰ اسلامی احساس ہمیشہ زندہ رہے۔ کسی بھی حال میں اُس کے اندر کی (erosion) نہ ہونے پائے۔ قرآن کے مطابق، اللہ نے کسی انسان کے اندر دو دل نہیں بنائے (33:4)۔ یعنی، انسان کے دل میں بیک وقت دو متضاد نفسیات پرورش نہیں پا سکتیں۔ جو دل انسان سے نفرت کرے، عین اُسی وقت وہ خدا سے محبت نہیں کر سکتا۔ جس دل کے اندر انسانوں کے بارے میں شکایات بھری ہوئی ہوں وہ دل کبھی خدا کے شکر سے سرشار نہیں ہو سکتا۔ جس آدمی کا سینہ انتقامی نفسیات کا جنگل بنا ہوا ہو، وہ خدا سے طلب عفو کی لذت کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ جو انسان ظلم کی یادوں میں جی رہا ہو، وہ خدا ئِ رحمٰن و رحیم کی یادوں کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اور حسن اعراض مومن کے لیے ایک خود حفاظتی تدبیر ہے۔ یہ اپنے آپ کو اس سے بچانا ہے کہ اُس کے سینے میں غیر مومنانہ نفسیات کی پرورش ہونے لگے۔ اس لیے جب بھی ایسا کوئی موقع پیش آتا ہے تو مومن کہہ اُٹھتا ہے کہ میں اس قسم کی منفی سوچ کا تحمل نہیں کر سکتا۔ یہاں اس معاملہ کی مزید وضاحت کے لیے رسول اور اصحاب رسول کی زندگی سے حسن اعراض کی کچھ عملی مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ 1۔ ابن اسحق کی روایت ہے کہ قدیم مکہ کے قریش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتے تھے اور سبّ و شتم کرتے تھے۔ چنانچہ اُنھوں نے آپ کا نام محمد کے بجائے مذمم رکھ دیا تھا۔ محمد کا مطلب ہے، تعریف کیا ہوا۔ اس کے بجائے وہ آپ کو مذمّم (مذمت کیا ہوا) کہتے تھے۔ روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: أَلاَ تَعْجَبُونَ لِمَا يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي مِنْ أَذَى قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَهْجُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 356)۔ یعنی، کیا تم کو تعجب نہیں کہ اللہ نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader