ہجرِ جمیل
Urdu book, p. 355
By Maulana Wahiduddin Khan
دونوں فریقوں کے درمیان ایک معاہدۂ امن تیار کیا گیا۔ اس معاہدہ کے وقت قریش نے ضد کا مظاہرہ بھی کیا اور تشدد کا مظاہرہ بھی۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اُن کی یک طرفہ شرطوں پر معاہدہ کیا جائے۔ اصحابِ رسول کو اس سے بے حد تکلیف ہوئی۔ اس طرح کی شرطوں پر معاہدہ کرنا اُن کو بظاہر ایک ذلت کا معاہدہ معلوم ہوتا تھا۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ : لاَ تَدْعُونِي قُرَيْشُ الْيَوْمَ إِلَى خُطَّةٍ يَسْأَلُونَنِي فِيهَا صِلَةَ الرَّحِمِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا (سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 310)۔ یعنی، قریش آج جو خا کہ بھی پیش کریں گے، بشرطیکہ اُس میں صلہ رحمی کو ملحوظ رکھا گیا ہو، میں ضرور اُس پر راضی ہو جاؤں گا۔ پیغمبر اسلام کا یہ قول ہجر جمیل کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ دشمن کی یک طرفہ شرطوں کو ماننا ایک سخت نا گوار معاملہ تھا۔ مگر آپ نے مذکورہ بات کہہ کر اس نا گوار کو ایک خوش گوار معاملہ بنا لیا۔ قدیم عربوں کے نزدیک صلہ رحمی بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبارِ حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کرلوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طور پر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صلح کے ہر خا کہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اُس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو۔ حالانکہ پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔ 3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام عبد اللہ بن ابی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگرچہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھاجس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader