Urdu book · تعمیرِ شخصیت

ہجرِ جمیل

Urdu book, p. 356

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اُسید بن حضیر سے کیا۔ انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: یَا رَسُولَ اللَّهِ ! اَرْفِقْ بِهِ فَوَ اللَّهِ لَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِكَ، وَإِنَّا لَنَنْظِمُ لَهُ الْخَرَزَ لِنَتَوَّجَهُ. فَوَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيَرَى أَنْ قَدْ سَلَبْتَهُ مُلْكًا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 292)۔ یعنی ، اے خدا کے رسول ، اُس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجیے، خدا کی قسم ، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اُس کی قوم کے لوگ اُس کے لیے جواہر کا تاج تیار کر رہے تھے تا کہ وہ اُس کو بادشاہ بنائیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اُس کا مقام اُس سے چھین لیا ہے۔ یہ حسنِ اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کی شرانگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں۔ حسنِ اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ 4۔ اوپر ہجر جمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال لیجیے۔ جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اُس میں ایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے جو اگر چہ زبان سے بولی نہیں جاتی مگر وہ حقیقی مطلوب کے طور پر اس میں شامل رہتی ہے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا معاہدہ ہے۔ حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہفتہ قیام فرمایا۔ اس دوران قریش نے مختلف قسم کی زیادتیاں کیں۔ مثلاً ایک صحابی کو تنہا پا کر انہیں تیر مار کر ہلاک کر دیا۔ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے، اتنے میں قریش کے کچھ لوگ آئے اور آپ پر تیر برسانے لگے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز صورت حال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے دس سال کا امن معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدہ کی دفعات حضرت عمر پر سخت ناگوار تھیں۔ وہ حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور کہا: یا أَبَا بَكْرٍ، أَلَيْسَ بِرَسُولِ اللَّهِ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: أَوْ لَسُنَّا بِالْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: بَلَى،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page