Urdu book · تعمیرِ شخصیت

ہجرِ جمیل

Urdu book, p. 357

By Maulana Wahiduddin Khan

قَالَ: أَوْ لَيْسُوا بِالْمُشْرِكِينَ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَعَلَامَ نُعْطَى الدَّنِيَّةَ (سيرت ابن هشام، جلد 2، صفحہ 317)_ یعنی، اے ابو بکر! کیا محمد اللہ کے رسول نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا ہم مسلمان نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ کیا وہ مشرک نہیں، انہوں نے کہا کہ ہاں۔ عمر نے کہا کہ پھر ہم اپنے دین میں یہ ذلت کیوں گوارا کریں۔ روایات کے مطابق، حضرت عمر نے یہی بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہی۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی زیادتیوں کے باوجود اُن کی یک طرفہ شرطوں پر دس سال کا جو معاہدہ کیا تھا، وہ ایک نہایت اہم اسلامی مصلحت کی بنا پر تھا۔ اور وہ مصلحت یہ تھی کہ دشمن سے معاہدہ امن کر کے معتدل حالات پیدا کیے جائیں تاکہ اسلامی دعوت کا عمل مؤثر طور پر جاری ہو سکے۔ مگر یہ نصیحت نہ امن معاہدہ کے اندر لکھی گئی اور نہ حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کی شدید ناگواری کے باوجود آپ نے حدیبیہ کے مقام پر اس کا اعلان کیا۔ یہ ہجر جمیل (حسن اعراض) کا دوسرا پہلو ہے۔ یہ دوسرا پہلو ہمیشہ مخفی حالت میں ہوتا ہے۔ اس پہلو کو لفظوں میں پانا ممکن نہیں۔ اگر اس کو لفظوں میں لکھا یا بولا جائے تو اُس کی ساری معنویت ختم ہو جائے گی۔ ایسی حالت میں لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک رویہ درست ہے۔ یا تو وہ اتنا زیادہ ہوش مند ہوں کہ سطور کے اندر بین السطور کو پڑھ لیں۔ وہ اعلان کے بغیر اُس کی اہمیت کو دریافت کر لیں۔ جن لوگوں کے اندر اتنی ہوش مندی نہیں ہے اُن کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی بصیرت پر اعتماد کریں۔ وہ صرف اعتماد اور حسن ظن کی بنا پر یہ عقیدہ رکھیں کہ اُن کے رہنما نے جو بات کہی ہے اُس کے پیچھے ضرور کوئی گہری مصلحت ہوگی۔ ہمارا کام اپنے رہنما کی اتباع کرنا ہے، نہ کہ اُس کی دیانت داری (integrity) پر شک کرنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page