Urdu book · تعمیرِ شخصیت

ہجرِ جمیل

Urdu book, p. 359

By Maulana Wahiduddin Khan

اور آپ کے ساتھیوں پر اتنا زیادہ تشدد کیا کہ آپ کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ چھوڑ دینا پڑا۔ اس ترک وطن کے بعد بھی وہ آپ کے خلاف مسلسل جارحیت کرتے رہے۔ آخر کار وہ وقت آیا جب کہ پیغمبرِ اسلام، اللہ کی مدد سے مکہ کے فاتح بن گئے۔ اب وقت تھا کہ ماضی کے ظلم کی انہیں سزا دی جائے۔ عام رواج کے مطابق، اُن کو قتل کر دینا عین جائز تھا۔ مگر پیغمبرِ اسلام نے اُن لوگوں کے ساتھ ہجرِ جمیل کی روش اختیار کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب قریش کے یہ مجرمین آپ کے سامنے حاضر ہوئے تو آپ نے اُن سے پوچھا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ: أَخٌ كَرِيمٌ وَابْنُ أَخٌ كَرِيمٍ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 412)۔ یعنی، آپ شریف بھائی ہیں اور شریف بھائی کے بیٹے ہیں۔ پیغمبر اسلام نے اس کے بعد فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ میں تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو پیغمبر یوسف نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (12:92)۔ یعنی، آج تمہارے اوپر کوئی الزام نہیں۔ یہ کہہ کر آپ نے فرمایا کہ: جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔ اس طرح آپ نے اُن تمام لوگوں کو آزاد کر دیا جو اس سے پہلے آپ کے خلاف کھلے دشمن بنے ہوئے تھے (السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 76-18275)۔ پیغمبر اسلام کا یہ عمل ایک بامقصد انسان کے عمل کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔ پیغمبرِ اسلام کا مقصد یہ تھا کہ آپ بیت اللہ کو بتوں سے پاک کریں۔ مکہ کے لوگوں کو شرک سے نکال کر انہیں خدائے واحد کا پرستار بنائیں۔ اپنے دشمن انسان کو دوست انسان میں تبدیل کر کے توحید کی بنیاد پر وہ انقلاب لائیں جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ پیغمبرِ اسلام کے یک طرفہ حسنِ سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے یہ تمام لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: فَخَرَجُوا كَأَنَّمَا نُشِرُوا مِنَ الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ۔ یعنی،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page