Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 360

By Maulana Wahiduddin Khan

پھر وہ لوگ وہاں سے اس طرح نکلے جیسے کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے(السنن الکبریٰ للبیہقی،حدیث نمبر 18275)۔ پیغمبر اسلام اگر اس کے برعکس، اُن دشمنوں سے اُن کی ظالمانہ روش کا انتقام لیتے تو اس کے بعد یہ ہوتا کہ وہاں انتقام در انتقام کا دور چل پڑتا۔ ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام شروع ہو جاتا اور پھر حالات ایسا منفی رُخ اختیار کر لیتے کہ سارا تعمیری منصوبہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ غیر فطری ردعمل جب کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو اُس کے مقابلہ میں آدمی کی روش کی دو مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جذباتی ردعمل کا طریقہ، اور دوسرا غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ۔ جذباتی ردعمل عین وہی چیز ہے جس کو میڈیکل اصطلاح میں الرجی (allergy) کہا جاتا ہے۔ الرجی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ الرجی نام ہے معتدل حالات میں غیر معتدل ردعمل کا۔ Abnormal reaction to normal things. مثلاً اپنے خلاف تنقید کو سُن کر غصہ ہونا، اس قسم کی ایک الرجی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی کسی بات پر تنقید کرتا ہے تو اُس کا معتدل اور فطری ردعمل یہ ہے کہ آپ کھلے ذہن کے ساتھ اُس کو سنیں اور کھلے ذہن کے ساتھ اُس پر غور کریں۔ اگر تنقید غلط ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ دلیل کے ساتھ اُس کا جواب دیں اور اگر تنقید درست ہے تو سیدھی طرح اُس کو مان لیں۔ اس کے برعکس تنقید کو سُن کر بگڑ جانا، تنقید کا غیر معتدل اور غیر فطری انداز میں جواب دینا ہے۔ پہلی صورت مریضانہ ذہنیت کا ثبوت ہے، اور دوسری صورت صحت مند ذہنیت کا ثبوت۔ اسی طرح مخالفانہ نعرہ کو سُن کر اشتعال ہو جانا، تو ہین کے کسی معاملہ پر بھڑک اُٹھنا، اپنے راستہ میں کوئی رکاوٹ دیکھ کر بگڑ جانا، اپنی سوچ کے خلاف سوچ کو برداشت نہ کر سکنا، یہ سب جذباتی ردعمل کی صورتیں ہیں۔ ایسے لوگ ہمیشہ دوسروں کے خلاف نفرت اور تشدد میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page