غیر فطری ردِّ عمل
Urdu book, p. 361
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑے رہتے ہیں۔ وہ زندگی کے مثبت اور تعمیری رخ کا تجربہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ ہے۔ اسی کو قرآن میں ہجرِ جمیل کہا گیا ہے۔ یعنی جب اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات پیش آئے تو اشتعل نہ ہو کر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ اس پر غور کرنا، اور سوچے سمجھے فیصلے کے تحت معتدل انداز میں اس کا جواب دینا۔ اس معتدل جواب کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ سادہ طور پر بس اُس کو نظر انداز کر دیا جائے۔ یعنی وہی رویہ جس کو عام زبان میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے ــــ کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے۔ اسی طرح کبھی ہجر جمیل کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مخالف گروہ کی بدعملی کا جواب خوش عملی سے دیا جائے۔ اس کے پست اخلاق کے مقابلہ میں برتر اخلاق کا طریقہ اختیار کر کے اس کو مغلوب کر لیا جائے۔ اسی طرح کبھی حالات کا تقاضا یہ ہوسکتا ہے کہ دبائو کی سیاست (pressure tactics) کا طریقہ اختیار کر کے اس کو خاموش ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔ ہجر جمیل کی کوئی ایک لگی بندھی صورت نہیں۔ حالات کے اعتبار سے اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔ تاہم جوصورت بھی اختیار کی جائے وہ سوچے سمجھے منصوبہ کی بنیاد پر ہوگی، نہ کہ بلا سوچے سمجھے ردعمل کی حیثیت سے۔ اس کا بنیادی مقصد اعراض کرنا ہوگا، نہ کہ اُلجھ جانا۔ وہ ہمیشہ امن کے اصول پر ہوگی، نہ کہ تشدد کے اصول پر۔ اس کے پیچھے کبھی بھی نفرت اور انتقام کا جذبہ نہیں ہوگا بلکہ صرف یہ جذبہ ہوگا کہ کسی نہ کسی طرح حسن تدبیر کے ذریعہ معاملہ کو ٹال دیا جائے تاکہ زندگی کی گاڑی معمول کے مطابق اپنے مطلوبہ رخ پر چلنے لگے۔ ہجرِ جمیل کا نشانہ خارجی مسئلہ نہیں ہوتا بلکہ آدمی کی خود اپنی ذات ہوتی ہے۔ ہجرِ جمیل کا نشانہ یہ نہیں ہوتا کہ خود مسئلہ کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اُس کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ مسئلہ کو اپنے خلاف مسئلہ بننے سے روک دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader