انسان کی رعایت
Urdu book, p. 363
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑھی۔ ایک آدمی لمبی قرات سے گھبرا کر نماز سے الگ ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت معاذ اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا۔ البتہ حضرت معاذ کی بابت فرمایا: فَتَّانُ، فَتَّانُ، فَتَّانُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 701)۔ یعنی، فتنه انگیز، فتنه انگیز، فتنه انگیز۔ اس سلسلے کا سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ وہ ہے جب کہ ایک دیہاتی شخص آیا اور مسجد نبوی میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگ اس کی طرف دوڑے تو آپ نے لوگوں کو روکا۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو چکا تو آپ نے گندگی کی صفائی کرائی اور صحابہ سے فرمایا: فَإِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔ یعنی، تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ قدیم زمانہ میں کعبہ کی عمارت ایک بار بارش کی زیادتی سے گر گئی تھی۔ قریش نے دوبارہ بنایا تو سامان کی کمی کی وجہ سے اصل بنائے ابراہیمی پر نہیں بنایا، بلکہ چھوٹا کر کے بنایا۔ آپ چاہتے تھے کہ اس کو دوبارہ بنائے ابراہیم کے مطابق بنوادیں، مگر اس اندیشہ سے کہ کعبہ کی عمارت کے ساتھ جو تقدس شامل ہے، اس کی وجہ سے لوگ شاید اس کے انہدام کا تحمل نہ کر سکیں، آپ اس سے باز رہے۔ آپ نے ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا: لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1585؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1333)۔ یعنی، اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر پھر سے ابراہیم کی بنیاد کے مطابق بنا دیتا۔ ان احادیث رسول میں دراصل انسانی رعایت کی تعلیم دی گئی ہے۔ حدیثوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ ہے کہ انسان کے ساتھ آخری حد تک رعایت کا معاملہ کیا جائے۔ قول یا عمل، کسی میں بھی شدت کا انداز اختیار نہ کیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader