Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 364

By Maulana Wahiduddin Khan

اس رعایت کا مطلب لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصلاح کے عمل کے لیے صحیح نقطہ آغاز (starting point) اختیار کیا جائے۔ اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اعمال کے ظاہری پہلوؤں کے بارے میں رعایت کا معاملہ کیا جائے اور زیادہ زور اور تا کید اعمال کے داخلی پہلوؤں پر دیا جائے۔ کیوں کہ ظواہر کی اصلاح سے داخلی اصلاح نہیں ہوتی۔ بلکہ اس کے برعکس، داخلی اصلاح سے ظواہر کی اصلاح ہوتی ہے۔ رعایت کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو دین پر عمل کرنا، زیادہ مشکل نہیں معلوم ہوتا۔ وہ متوحش ہوئے بغیر دینی اعمال کو اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے آدمی کے داخل کی اصلاح ہوتی ہے، پھر دھیرے دھیرے اس کے ظواہر بھی دین کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ رعایت دراصل حکیمانہ طریق کار کا دوسرا نام ہے، اور یہ ایک واقعہ ہے کہ حقیقی اصلاح ہمیشہ حکیمانہ طریق کار کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، نہ کہ غیر حکیمانہ طریق کار کے ذریعے مصلح کا طریقہ ہمیشہ رعایت کا ہونا چاہیے۔ مصلح کا سارا زور اس پر ہونا چاہیے کہ وہ لوگوں کے اندر جذبہ عمل پیدا کرے۔ عمل کا جذبہ پیدا ہوتے ہی آدمی وہ کام خود کرنے لگتا ہے جس کو شدت پسند مصلح نا کام طور پر انجام دینا چاہتا ہے۔ اشتعال نہیں ایک صاحب ہیں۔ وہ بظاہر عام حلیہ میں رہتے ہیں، مگر مزاج کے اعتبار سے بہت دیندار ہیں۔ وہ ایک تعلیم یافتہ آدمی ہیں اور قرآن وحدیث کے موضوعات پر کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ایک روز نماز جمعہ کے بعد مسجد میں ان کی ملاقات ایک بزرگ سے ہوئی۔ موصوف کے ساتھی نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ فلاں صاحب ہیں اور وہ قرآن وحدیث پر کئی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ بزرگ نے موصوف کی طرف دیکھا تو انھوں نے پایا کہ وہ قمیص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page