Urdu book · تعمیرِ شخصیت

کی تدبیر

Urdu book, p. 384

By Maulana Wahiduddin Khan

باوجود ان کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کے لیے اللہ سے دعا کرنا (أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ حقكم) مسند احمد، حدیث نمبر 3641۔ اس معاملہ میں ایک حدیث وہ ہے جو سنن ابوداؤد، جامع الترمذی، سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں آئی ہے۔ یہ ایک لمبی روایت ہے، اس کا آخری حصہ یہ ہے: إِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ، فَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ (تفسیر عبد الرزاق، حدیث نمبر 814)۔ یعنی، مجھے اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ گمراہ کن لیڈروں سے ہے اور جب تلوار میری امت میں داخل ہوگی تو پھر وہ اس سے قیامت تک نہیں اٹھائی جائے گی۔ اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ امت میں جب اختلافات پیدا ہوں گے تو نااہل لیڈر ڈِیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس کو رفع نہ کرسکیں گے بلکہ وہ اختلاف کو دور کرنے کے نام پر لڑائی چھیڑ دیں گے اور جب ایک بار امت میں دین کے نام پر لڑائی کی روایت قائم ہوگئی تو اجتماعی نفسیات کی بنا پر وہ قیامت تک جاری رہے گی۔ حدیث کی یہ پیشین گوئی بدقسمتی سے امت کی بعد کی تاریخ کے بارے میں درست ثابت ہوئی۔ امت کے اندر وضع سیف کا یہ معاملہ خلیفہ ثالث عثمان بن عفان کی شہادت کے ساتھ شروع ہوا۔ پھر اس کے بعد وہ اس طرح مسلسل جاری ہوگیا کہ امت کی ہزار سالہ تاریخ میں وہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ خلیفہ چہارم اور دمِ عثمان کے نام پر اٹھنے والوں کے درمیان جنگ، حسین اور یزید کے درمیان جنگ، بنو امیہ اور بنو عباس کے درمیان جنگ، سنی اور شیعہ کے درمیان جنگ، مغلوں اور غیر مغلوں کے درمیان جنگ، اسی طرح موجودہ زمانہ میں سیکولر حکمراں اور اسلام پسند جماعتوں کے درمیان جنگ، وغیرہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page