Urdu book · تعمیرِ شخصیت

کی تدبیر

Urdu book, p. 383

By Maulana Wahiduddin Khan

کوشش کی جائے ۔ گویا اس کا مطلب ہے، اختلاف کے باوجود اتحاد۔ اس فارمولے کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے: Art of difference management پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی تدبیر کا عملی نمونہ ہے۔ مثال کے طور پر آپ نے قدیم مکہ میں 610ء میں دعوتِ توحید کا مشن شروع کیا۔ اس وقت توحید کے نقطہ نظر سے مکہ میں سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ تھا کہ توحید کے گھر (کعبہ) میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ مگر اس وقت قرآن میں اس مفہوم کی کوئی آیت نہیں اتری: طَهِّرِ الكعبة من الأصنام (کعبہ کو بتوں سے پاک کرو)۔ بلکہ اس کے بجائے قرآن میں یہ آیت اتری کہ: وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (74: 4)۔ یعنی، اپنے اخلاق کو درست کرو۔ اس قرآنی اصول پر عمل کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے یہ کیا کہ آپ نے مکہ کے تیرہ سالہ قیام کے زمانہ میں کبھی بتوں کو توڑنے کی کوشش نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے یہ کیا کہ لوگوں کو توحید کا پیغام دینے کی پرامن جدوجہد شروع کر دی۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں واقعہ صلح حدیبیہ 628ء ہے۔ یہ صلح گویا ڈیفرنس مینجمنٹ (difference management) کی ایک کامیاب مثال تھی جو انسانی تاریخ میں غالباً پہلی بار نہایت کامیابی کے ساتھ قائم کی گئی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سخت انتباہ دیا تھا کہ اختلاف خواہ کتنا ہی بڑا ہو وہ ہر حال میں ڈیفرنس مینجمنٹ کے اصول پر اس کو حل کرے۔ کسی بھی حال میں وہ ایسا نہ کرے کہ اتحاد کے نام پر اختلاف کو مٹانے کی کوشش کرے۔ حدیث کے مجموعوں میں کتاب الفتن کے تحت کثرت سے اس قسم کی روایتیں آئیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے بعد امراء اور حکام کے اندر بگڑ آئے گا مگر تم ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرنا۔ تم ظلم کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page