Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 387

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا میں ہر سماج فرق واختلاف والا سماج ہے۔ یہ فرق واختلاف چونکہ خود فطرت کا ایک لازمی حصہ ہے اس لیے اس کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ فرق کے ساتھ نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے نہ کہ فرق کو مٹانے کا۔ It requires difference management rather than eliminating the difference. فطرت کے اس اصول کا تعلق مذہبی معاملہ سے بھی ہے اور سیکولر معاملہ سے بھی۔ اس دنیا میں کوئی بھی نظام مذہبی ہو یا غیر مذہبی، کامیاب طور پر وہی لوگ بنا سکتے ہیں جو ڈفرنس مینجمنٹ کا آرٹ جانتے ہوں۔ فرق واختلاف کو مٹانا تشدد پیدا کرتا ہے اور فرق واختلاف کو مینج کرنا امن اور ہم آہنگی کا سبب بنتا ہے۔ فرق واختلاف کوئی بُرائی نہیں، وہ ترقی کا زینہ ہے۔ فرق واختلاف سے اجتماعی زندگی میں چیلنج پیدا ہوتا ہے۔ اور چیلنج کا سامنا کرنا ہی اس دنیا میں ہر قسم کی ترقی کا واحدراز ہے۔ کوئی دشمن نہیں پچھلے زمانے میں کوئی کسی کا دوست ہوتا تھا، اور کوئی کسی کا دشمن۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔ اب کوئی نہ کسی کا دوست ہے، اور نہ کوئی کسی کا دشمن۔ اب ہر آدمی پرو سیلف (pro-self) ہے ۔ ہر آدمی کا ایک ہی کنسرن (concern) ہے۔ اور وہ اس کا اپنا انٹرسٹ ہے۔ آج کا انسان اپنے انٹرسٹ میں اتنا گم ہے کہ اس کو کسی اور کے خلاف سوچنے کی فرصت نہیں۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا فرق کا سبب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مواقع (opportunities) بہت محدود ہوتے تھے۔ مواقع پر ایک مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) کا قبضہ ہوتا تھا۔ موجودہ زمانے میں اصولی طور پر یہ صورتِ حال ختم ہوگئی ہے۔ اب تمام مواقع ہر آدمی کے لیے کھل گئے ہیں۔ اس لیے ہر آدمی اپنے انٹرسٹ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page