Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 388

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے دوڑ رہا ہے۔ ذاتی انٹرسٹ کے اس دوڑ میں کسی کے پاس دوسرے کے خلاف سوچنے کا وقت نہیں۔ کسی کے پاس دوسرے کے خلاف دشمنی اور سازش کرنے کا وقت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمنی کا لفظ دورِ جدید کی ڈکشنری سے عملاً حذف ہو چکا ہے۔ اب اگر کوئی کسی کا دشمن بنتا ہے تو وہ اس وقت بنتا ہے جب کہ اس کو ”پتھر“ مار کر اس کو مشتعل کر دیا جائے۔ اگر آپ آہبیل مجھے مار کی سیاست اختیار کر کے کسی کے ایگو (ego) کو چھیڑ دیں تو وہ ضرور آپ کو سنگ مارے گا۔ اگر آپ مکمل طور پر پرامن بن جائیں تو کوئی شخص نہ آپ کا دشمن ہوگا، اور نہ کوئی شخص آپ کے خلاف سازش کرے گا۔ ایک حدیثِ رسول موجودہ زمانے میں مزید اضافہ کے ساتھ صادق آتی ہے: اَلْفِتْنَةُ نَائِمَةٌ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ أَيْقَظَهَا (كنز العمال، حدیث نمبر 30891)۔ یعنی، فتنہ سویا ہوا ہے، اس پر اللہ کی لعنت ہو جو اس کو جگائے۔ ہوش مندی کے ساتھ زندگی گزار لیے، اور پھر آپ کو کسی سے دشمنی کا تجربہ نہ ہوگا۔ انتہا پسندی نہیں ایک مغربی مصنف لینس آرم سٹرانگ (Lance Armstrong) کی ایک کتاب چھپی ہے۔ یہ کتاب اسپورٹس اور اس کے شائقین کے بارے میں ہے۔ اس کتاب کا فرانسیسی نام یہ ہے: Tour de France. کتاب کے مصنف نے بتایا ہے کہ اسپورٹس کے شائقین کی یہ نفسیات ہے کہ وہ اپنی قوم کے جیتنے والوں سے جذباتی طور پر محبت کرتے ہیں، اور اگر وہ ہار جائیں تو اسی شدت کے ساتھ وہ اُن سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ اس قسم کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page