Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر و اعراض کا کرشمہ

Urdu book, p. 393

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ مدراس کے دو تقابلی واقعات ہمیں لکھ کر بھیجے ہیں۔ ان واقعات میں بہت بڑا سبق ہے ۔موصوف کا پتہ یہ ہے: Mohammad Kalimullah, 352, T.T.K. Road, Royapettah, Madras 600014. ان کا خط مورخہ 28 ستمبر 1991ء اور مورخہ 12 اکتوبر 1991ء ہمارے سامنے ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے اس کے انگریزی روزنامہ ”ہندو“ کی ایک کاپی روانہ کی ہے جس کے صفحہ 3 پر مذکورہ واقعہ کی رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ مکمل طور پر اس صفحہ کے نیچے نقل کی جارہی ہے۔ خبر یہ ہے: مدراس میں ہر سال گنیش چترتھی کا جلوس نکلتا ہے۔ پچھلے سال ہندوؤں کا یہ مذہبی جلوس 21 ستمبر 1990ء کو نکلا تھا۔ یہ جلوس چلتا ہوا ٹرپلی کین ہائی روڈ میں داخل ہوا۔ یہ ایک مسلم علاقہ ہے، یہاں مسجد کے سامنے باجا بجایا گیا اور اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے ۔ اس پر مسلمان مشتعل ہو گئے۔ آخر کار مسلمانوں اور پولیس کے درمیان باقاعدہ لڑائی شروع ہو گئی۔ پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجہ میں دو مسلمان مارے گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے۔ مسلمانوں کی کئی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ جانی اور مالی دونوں نقصان صرف مسلمانوں کا ہوا۔ گنیش چترتھی کا یہ جلوس اس سال بھی 21 ستمبر 1991ء کو نکالا گیا۔ مگر اس سال مسلمانوں نے جوش کے بجائے ہوش سے کام لیا۔ انھوں نے اس بار ”اعراض کرو اور کامیابی حاصل کرو“ کا فارمولا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلوس نے حسب معمول مسلم محلہ میں باجا بھی بجایا اور اشتعال انگیز نعرے بھی لگائے۔ مگر مسلمانوں نے نہ تو روٹ بدلنے کا مطالبہ کیا اور نہ وہ اشتعال انگیز باتوں پر مشتعل ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس سڑک پر چلتا ہوا گزر گیا۔ مسلمانوں کا کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ علاقہ میں مکمل طور پر امن قائم رہا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page