تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 392
By Maulana Wahiduddin Khan
جلد 1، صفحہ 196)۔ جس آدمی نے آپ کی جان لینے کا ارادہ کیا تھا، آپ کے حسنِ اخلاق کے نتیجہ میں اس نے اپنے قبیلہ کے تمام آدمی کو آپ کا ساتھی بنا دیا۔ ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر دو مختلف صلاحیتیں ہیں۔ ایک نفسِ لَوّامہ (ضمیر) اور دوسرے، نفسِ امّارہ (انانیت)۔ یہ دونوں صلاحیتیں ابتدائی طور پر سوئی ہوئی حالت میں ہوتی ہیں۔ اب اگر آپ فريقِ ثانی کے نفس لَوّامہ کو جگائیں تو اس کی شخصیت کا انسانی جزء آپ کے حصہ میں آئے گا۔ اور اگر آپ فریقِ ثانی کے نفسِ امّارہ کو جگائیں تو اس کی شخصیت کا حیوانی جزء آپ کے حصہ میں آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ آپ آدمی کے انسانی حصہ کو جگائیں۔ اس لیے آپ نہ صرف اچھوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے، بلکہ بروں کے ساتھ بھی آپ ہمیشہ اچھا سلوک کرتے تھے۔ اس کی وجہ سے آدمی کی چھپی ہوئی فطرت جاگتی تھی۔ اور آخر کار وہ آپ کا ساتھی بن جاتا تھا۔ موجودہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل نہیں کرتے کہ بروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو۔ وہ ہمیشہ رَدِّعمل کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کا طریقہ صرف فریقِ ثانی کی انانیت کو جگانے کا باعث بنتا ہے۔ خدا کے بندوں کے لیے ان کے پاس ”معافی“ نہیں، البتہ ان کے پاس ”نفرت“ کافی مقدار میں موجود ہے، جس کو وہ لوگوں کے اوپر انڈیلتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو خدا کے اس باغ میں صرف کانٹے ملیں گے ۔ وہ اس باغ کے پھولوں کے مالک نہیں بن سکتے۔ یہی قانونِ قدرت کا فیصلہ ہے۔ صبر و اعراض کا کرشمہ جناب محمد کلیم اللہ صاحب مدرس کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے مکمل حوالے کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader