Urdu book · تعمیرِ شخصیت

صبر و اعراض کا کرشمہ

Urdu book, p. 395

By Maulana Wahiduddin Khan

والوں نے اقلیتی فرقہ کے خلاف قابل اعتراض نعرے لگائے جن کا مذہب سے کوئی بھی تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے مدرساس پولیس کی بھی تعریف کی جس نے شہر کو نقض امن سے بچانے کی مؤثر تدابیر اختیار کیں (صفحہ 3)۔ اس خبر پر غور کیجیے۔ ایک ہی واقعہ ایک ہی محلہ میں دو بار ہوتا ہے، ایک بار وہاں فساد ہو جاتا ہے، اور دوسری بار فساد نہیں ہوتا۔ اس فرق کا سبب جلوس والوں کا رویہ نہیں ہے، بلکہ محلہ والوں کا رویہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فساد کا ہونا یا نہ ہونا تمام تر محلہ والوں کے اختیار میں ہے۔ وہ چاہیں تو ایک قسم کا رد عمل اختیار کر کے معاملہ کو فساد تک پہنچا دیں اور چاہیں تو دوسرے قسم کا رد عمل اختیار کر کے فساد کی جڑ کاٹ دیں۔ دوسرا سبق اس میں یہ ہے کہ مسلمان اگر ان مواقع پر مخالفانہ رد عمل کا مظاہرہ کریں تو معاملہ پولیس اور مسلمان کا بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو معاملہ جلوس والوں کا اور پولیس کا رہتا ہے۔ ایک صورت میں مسلمان پولیس کے نشانہ پر آجاتے ہیں اور دوسری صورت میں جلوس والے۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ تحمل کا رویہ نہایت اثر کرنے والا رویہ ہے۔ چنانچہ مدرساس کے مذکورہ واقعہ پر جب مسلمانوں نے تحمل کا رویہ اختیار کیا تو خود اکثریتی فرقہ کے اندر سے ایسے افراد اٹھے جنھوں نے جلوس والوں کی مذمت کی۔ اور مسلمانوں کی شرافت کا واضح طور پر اعتراف کیا۔ اخبارات میں مسلمانوں کو سراہا گیا اور دوسرے گروہ کو کنڈم کیا گیا۔ یہ سارا کرشمہ صرف ایک چیز کا تھا، اور وہ صبر ہے، جس کو اخبار ہندو“ نے اپنے تبصرہ میں برداشت (restraint) کا نام دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page