سماجی ہم آہنگی
Urdu book, p. 396
By Maulana Wahiduddin Khan
سماجی ہم آہنگی (انگریزی سہ ماہی میگزین السلام، نئی دہلی سے موصول ہونے والے سوالنامے کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا تھا۔ الرسالہ، ستمبر 2003 میں چوں کہ سوال کے بغیر صرف جوابات شائع ہوئے تھے ۔ اس لیے یہاں بھی صرف جوابات ہی نمبر وار نقل کیے جا رہے ہیں )۔ ① مختلف مذہبوں اور تہذیبوں کے سماج میں ہم آہنگی کیسے لائی جائے ۔ اس کا ایک فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ اس قسم کے اختلافات کو بلڈوزر کر کے پورے سماج کو ایک مذہب اور ایک کلچر کا سماج بنایا جائے ۔ مگر یہ کوئی فارمولا نہیں۔ کیوں کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ فطرت کا نظام جو خالق نے بنایا ہے وہ یکسانیت کے اصول پر نہیں بنایا بلکہ تعداد اور تنوع کے اصول پر بنایا ہے۔ یہی تعدد اور تنوع مذہبی اور تہذیبی دنیا میں بھی موجود ہے۔ یہ خالق کے تخلیقی نقشہ کا ایک حصہ ہے اور جو چیز خود خالق کے تخلیقی نقشہ کا حصہ ہو، اُس کو مٹانا کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں انسانی دنیا میں مذہبی یکسانیت یا کلچرل یکسانیت کی بات کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ مادی دنیا کے تنوع کو ختم کر کے یکساں مادی نظام قائم کرنے کا منصوبہ بنانا۔ اس سلسلے میں دوسرا فارمولا یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تمام مذاہب یکساں ہیں ۔ اس نظریہ کے حامی، لوگوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مختلف مذاہب میں کوئی اختلاف ہی نہیں۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ فرق اور اختلاف کے ذہن کو ختم کر دیں، اس طرح اپنے آپ اتحاد قائم ہو جائے گا۔ یہ بات بھی سراسر بے معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذہبوں اور مختلف تہذیبوں میں فرق اور اختلاف اتنا زیادہ حتمی صورت میں موجود ہے کہ کسی بھی دلیل سے اس کو غیر موجود ثابت کرنا ممکن نہیں ۔ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader