تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
عطا کریں گے، خواہ آج کی دنیا میں یا آج کے بعد بننے والی دوسری ابدی دنیا میں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر بھی شکر ہی کی ایک صورت ہے۔ ناخوش گوار صورت حال کو رضا مندی کے ساتھ قبول کرنا اور اس کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مان کر مثبت ذہن کے تحت اس کا استقبال کرنا یہی صبر ہے۔ اور یہ صبر ہمیشہ شاکرانہ قلب سے ظاہر ہوتا ہے۔ ناشکری سے بھرا ہوا دل کبھی صبر کا ثبوت نہیں دے سکتا۔ شکر کی تربیت شکر کا مزاج کیسے پیدا ہوتا ہے، اس کو ایک واقعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ دورانِ گفتگو انھوں نے کہا کہ ہمارے یہاں اسلامی ذہن بنانے کے لیے بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں، مگر پچاس سالہ کوششوں کے باوجود اب تک اسلامی انداز میں لوگوں کی ذہنی تربیت نہ ہوسکی۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کے بیان کے نصف ثانی سے اتفاق ہے۔ مگر مجھے اس کے نصف اول سے اتفاق نہیں۔ صرف اسلام کا نام لینے سے اسلامی تربیت نہیں ہوتی۔ اصل یہ ہے کہ اسلامی ذہن بنانے کے لیے صحیح رخ میں کوشش نہیں کی گئی۔ جب سمت درست نہ ہو تو مطلوب نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے۔ اسلامی مزاج بنانے کی ابتدا خدا کی معرفت اور خدا کے شکر کا مزاج پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔ یہ مزاج کیسے پیدا ہوتا ہے۔ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ پاکستان سے شائع ہونے والے پندرہ روزہ المنبر کے شمارہ 25 ستمبر 1991ء میں ”ضیاء الحق شہید فاؤنڈیشن“ کے زیرِ اہتمام ہونے والی کانفرنس کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا تھا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ”ضیاء الحق فاؤنڈیشن کو فوری طور پر قوم کے کردار اور فکر کی تہذیب و تربیت کا کام شروع کرنا چاہیے۔“ مگر محض اس طرح اسلام کا نام لینے سے خدا کی معرفت اور اسلامی کردار پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ لوگوں کو حیات و کائنات کا اس طرح مطالعہ کرایا جائے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader