تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے گرد و پیش کی پوری دنیا ان کے لیے رزق ربانی کا دستر خوان بن جائے، تاکہ انسان خدا کی بلیسنگ کے ذریعہ خدا کی معرفت حاصل کرے، اور خدا کا شکر گزار بنے۔ مگر مذکورہ میگزین میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق صاحب کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ ”یہ شہید صدر ہی تھے جن کی بدولت (سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد قرآن مجید کے لاکھوں نسخے روس میں تقسیم ہوتے رہے“ (صفحہ 22)۔ المنبر میں دعوتی عمل کے واقعہ کو تمام تر ایک انسان کی بدولت ظہور میں آنے والا واقعہ بتایا گیا ہے۔ اسی واقعہ کا ذکر الرساله (نومبر 1990، صفحہ 27) میں بھی کیا گیا۔ سوویت سسٹم کا تجزیہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اعلیٰ تدبیروں کے ذریعہ حالات میں وہ تبدیلی پیدا کی جس کے نتیجہ میں سوویت یونین کی آہنی دیواریں ٹوٹ گئیں اور وہاں اسلام کا داخلہ ممکن ہو گیا۔ کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کو دیکھنے کے دو طریقے ہیں— اس واقعہ کو اکابر قوم یا قومی ہیرو کے خانے میں ڈال کر دیکھنا۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ ہے اس واقعہ کو خدا کے خانے میں ڈال کر دیکھنا۔ الرسالہ کے مضمون کو پڑھ کر آدمی کے اندر شکر خداوندی کا جذبہ امنڈے گا۔ مزید اس کے اندر یہ جذبہ ابھرے گا کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی دعوت کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں، ہم کو چاہیے کہ ہم ان کو استعمال کریں۔ جب کہ المنبر کے بیان سے صرف ہیرو ورشپ کا جذبہ ابھرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اسلامی تربیت کے لیے مسلمانوں کا موجودہ طریقہ کس طرح نا کافی ہے۔ سب کچھ خدا کا عطیہ 1938 میں عرب میں پٹرولیم کی دریافت ہوئی۔ اس کے بعد عربوں کی زندگی کا نقشہ بدل گیا۔ ایک عرب بدو کا واقعہ ہے، وہ پہلے معمولی خیمے میں رہتا تھا۔ اُس کی زندگی کا انحصار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader