سماجی ہم آہنگی
Urdu book, p. 400
By Maulana Wahiduddin Khan
برداشت کر لینا۔ دوسرے اگر نزاع کھڑی کریں تو پہلے ہی مرحلے میں صلح کر کے اس کا خاتمہ کر دینا۔ دوسرے اگر نقصان پہنچائیں تو دوسروں سے لڑنے کے بجائے خدا سے اس کی تلافی کی امید رکھنا۔ دوسرے اگر فساد کریں تب بھی ان کے لیے اصلاح کی دعائیں کرنا۔ دوسرے اگر کاٹنے کی کوشش کریں تب بھی ان سے جڑے رہنا۔ دوسرے اگر نہ دیں تب بھی ان کو دینے کی کوشش کرنا۔ دوسرے اگر ظلم کریں تب بھی انہیں معاف کر دینا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اس معاملہ میں اس حد تک گئے کہ ہجرت کے بعد مدینہ میں آپ تقریباً سولہ ماہ تک کعبہ کے بجائے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے تاکہ وہاں بسنے والے یہودیوں سے غیر ضروری ٹکراؤ نہ پیش آئے۔ قرآن میں اس معاملہ میں یہ اصول مقرر کیا گیا— تمہارے لیے تمہارا دین اور ہمارے لیے ہمارا دین (109:6)۔ مدینہ میں ہجرت کے بعد پیغمبر اسلام نے جو منشور جاری کیا، اُس میں آپ نے یہ درج فرمایا کہ مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین اور یہود کے لیے یہود کا دین: لِلتُّهُوْدِ دِينُهُمْ، وَلِلْمُسْلِمِيْنَ دِيْنُهُمْ (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 107)۔ اس مقصد کے لیے یہ اعلان کیا گیا کہ تمام انسان ایک ہی جوڑے کی اولاد ہیں۔ تمام انسان آپس میں بھائی اور بہن ہیں۔ تمام انسان خدا کی عیال ہیں۔ ایک انسان اور دوسرے انسان میں دنیوی تعلقات کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مولانا الطاف حسین حالی نے اپنی مسدس میں اس طرح نظم کیا ہے: یہ پہلا سبق تھا کتاب ہدیٰ کا کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader