Urdu book · تعمیرِ شخصیت

سماجی ہم آہنگی

Urdu book, p. 399

By Maulana Wahiduddin Khan

قسم کی سیاست دین اور عقل دونوں کے خلاف ہے۔ مسلمان اس قسم کی تفریقی سیاست کا تحمل نہیں کر سکتے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ اس غیر دانشمندانہ سیاست کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے۔ اس سلسلہ میں دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان میل ملاپ (interaction) زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ قدیم زرعی دور میں یہ میل ملاپ فطری طور پر موجود تھا۔ مگر اب صنعتی دور میں یہ خطرناک حد تک کم ہو گیا ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں۔ وہ ہندو اسکول اور مسلم اسکول کی تفریق کے بغیر ہر تعلیمی ادارہ میں داخلہ لے کر پڑھیں۔ مسلمانوں میں اگر بھر پور طور پر اس قسم کی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہو جائیں تو اس کا دو یقینی فائدہ ان کو حاصل ہوگا۔ اول یہ کہ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے دوران غیر مسلموں سے ان کا میل ملاپ بڑھے گا، اور interaction اپنے آپ میں ہر مسئلہ کا حل ہے۔ دوسرے یہ کہ مسلمان جب تعلیم میں آگے بڑھیں گے تو اس کے بعد فطری طور پر وہ دفتروں اور کمپنیوں اور تجارتی اداروں میں بڑی تعداد میں پہنچیں گے۔ اس طرح وہ دوری اپنے آپ ختم ہو جائے گی جو زمانی تبدیلی کے نتیجہ میں پیدا ہو گئی ہے۔ (۴) پر امن بقائے باہم کی اہمیت اسلام میں اتنی زیادہ ہے کہ مسلمانوں پر یہ لازم کر دیا گیا کہ وہ یک طرفہ قربانی کے ذریعہ پر امن بقائے باہم کا ماحول سماج میں قائم رکھیں ۔ اسی قربانی کا نام صبر ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تب بھی مشتعل نہ ہونا۔ دوسرے اگر نادانی کریں تب بھی اس سے اعراض کرنا۔ دوسرے اگر ستائیں تب بھی اس کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page