Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 406

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملے میں مسلمانوں کا استثنا نہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ہر قسم کے بہترین مواقع پائے ہوئے ہیں، جس طرح دوسرے لوگ ان کو پائے ہوئے ہیں۔ لیکن فطرت کے قانون کے تحت ایسا ہے کہ کوئی چیز ایسی بھی ہے جو مسلمانوں کو نہیں ملی۔ مسلمان یہ کر رہے ہیں کہ اسی نہ ملے ہوئے کو اپنی سوچ کا مرکز محور بنائے ہوئے ہیں اور ملے ہوئے کو نظر انداز کر رکھا ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلمان ساری دنیا میں منفی سوچ کی دلدل میں پڑے ہوئے ہیں، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ شکر سے محروم ہیں جو کسی انسان کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ مسلمانوں کی اس منفی سوچ کا سبب کیا ہے، وہ ہے 99 فی صد کو نظر انداز کرنا، اور ایک فی صد کو لے کر اپنی رائے بنانا۔ یہ نہایت برا طریقہ ہے۔ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ جو لوگ اس میں مبتلا ہوں، ان کو اس کی سب سے بڑی قیمت یہ دینی پڑے گی کہ ان کے اندر مثبت شخصیت نہ بنے۔ مثبت شخصیت سے محرومی کا مطلب ہے اللہ کی رحمت سے محرومی۔ صحیح طرزِفکر صحیح طرزِ فکر (right thinking) حکیمانہ طرزِ فکر کی ایک اعلیٰ قسم ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہم جس دنیا میں جیتے ہیں، یا صبح وشام گزارتے ہیں، اس میں چیزیں الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ مخلوط (mixed) حالت میں ہیں۔ اس بنا پر بظاہر چیزوں کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چیزوں کے بارے میں صحیح رائے اس وقت قائم ہوتی ہے، جب کہ آپ چیزوں کو الگ الگ کر کے دیکھ سکیں۔ اس طرح تجربیاتی مطالعے کے بغیر آدمی کے اندر صحتِ فکر پیدا نہیں ہو سکتی، وہ مبنی بر واقعہ سوچ کا حامل نہیں بن سکتا۔ مثلاً ایک شخص اپنے بارے میں یا اپنی کمیونٹی کے بارے میں یہی کہے گا کہ ہمارے اوپر ظلم ہو رہا ہے۔ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ تمہارے باپ دادا کا جو اسٹینڈرڈ تھا، کیا تمھارا اسٹینڈرڈ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page