صحیح طرز فکر
Urdu book, p. 407
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے کم ہے۔ وہ جواب دے گا کہ نہیں اس سے تو بہت اچھا ہے۔ مثلاً میرے باپ دادا بائیسکل پر سفر کرتے تھے، آج میں کار پر سفر کرتا ہوں۔ میرے دادا کے زمانے میں بچے معمولی مدرسے میں پڑھتے تھے، آج وہ شہر کے ایک اچھے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ میرے دادا کچے گھر میں رہتے تھے، آج میں اور میرے بچے پکے گھر میں رہ رہے ہیں، وغیرہ۔ اب اگر آپ اس سے پوچھیں کہ جب تمھاری فیملی کا اسٹینڈرڈ پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے، تو ظلم کہاں ہو رہا ہے۔ اب وہ حیران ہو جائے گا، اور کہے گا کہ میں نے اس اعتبار سے کبھی نہیں سوچا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ کہاں ہے۔ اصل مسئلہ خارج میں نہیں ہے، بلکہ داخل میں ہے۔ لوگوں کے اندر صحیح طرزِ فکر نہیں ہے۔ اس لیے لوگ شکایت میں جی رہے ہیں، حالاں کہ انھیں شکر میں جینا چاہیے۔ صحیح طرزِ فکر تجزیاتی فکر کا نام ہے۔ اگر آپ کے اندر ڈی ٹیچڈ تھنکنگ (detached thinking) ہو، اگر آپ تجزیاتی انداز میں سوچنا جانتے ہوں، تو آپ درست طرزِ فکر کے حامل بن سکتے ہیں۔ ہر چیز پر پرچہ امتحان حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَمَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 77)۔ یعنی، یاد رکھو، جو تم کو ملا، وہ تم سے کھویا جانے والا نہ تھا۔ اور جو کچھ تم سے کھویا گیا، وہ تم کو ملنے والا ہی نہ تھا۔ اس حدیثِ رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ نہ اتفاقاً ملتا ہے اور نہ بطور انعام۔ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف پرچہ امتحان کے طور پر ملتا ہے۔ خدا کے فیصلے کے تحت، ہر عورت اور مرد کو کچھ چیزیں دی جاتی ہیں، تا کہ اُن چیزوں میں آزما کر دیکھا جائے کہ آدمی کا رویہ کیسا تھا۔ خدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader