صحیح طرز فکر
Urdu book, p. 409
By Maulana Wahiduddin Khan
با اصول انسان کا ثبوت دیں۔ برائی کے جواب میں بھی وہ اپنے اچھے سلوک پر قائم رہیں۔ مذکورہ آیت کی تشریح میں حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: اَمَرَ اللهُ المومنين بالصبرِ عِندَ الغَضَبِ وَ الحِلمِ عِندَ الجَهلِ وَ العَفُوِ عِندَ الإسَآءَةِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 165)۔ یعنی، اللہ نے اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ جب انہیں غصہ آجائے تو وہ صبر و برداشت سے کام لیں۔ ان کے ساتھ جب کوئی شخص جہالت کرے تو وہ بردباری کا طریقہ اختیار کریں۔ اور جب ان کے ساتھ کوئی شخص برا سلوک کرے تو وہ اسے معاف کر دیں۔ اس اسلامی سلوک کو ایک لفظ میں مثبت سلوک کہا جاسکتا ہے۔ یعنی جوابی معاملہ نہ کرتے ہوئے ہر ایک سے معتدل معاملہ کرنا۔ دوسروں کی روش خواہ کچھ بھی ہو، اپنے آپ کو ہمیشہ اعلیٰ انسانی سلوک پر قائم رکھنا۔ مومن وہ ہے جو برتر حقیقتوں میں جینے لگے۔ جس کے سوچنے کی سطح عام انسانوں سے اوپر اٹھ جائے۔ ایسے انسان کے اندر بے پناہ تحمل کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کو اندرونی طور پر اتنا سکون مل جاتا ہے کہ وہ باہر کے کسی بھی ناموافق واقعہ سے بے حوصلہ نہیں ہوتا۔ جہاں لوگ غصہ کرتے ہیں وہاں اسے لوگوں کے اوپر ترس آتا ہے، جہاں لوگ بھڑک جاتے ہیں وہاں وہ سمندر کی طرح پر سکون بنا رہتا ہے۔ مصیبت کا مثبت پہلو ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: مَا دَعَا اللهَ المُؤْمِنُ بِدَعْوَةٍ إِلَّا وُکِّلَ بِحَاجَتِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُولُ: لَا تُعَجِّلْ بِإِجَابَتِهِ فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَ عَبْدِيَ المُؤْمِنِ (حلیۃ الاولياء، جلد 2، صفحہ 327)۔ یعنی، جب کوئی بندہ اللہ کو پکارتا ہے، تو جبریل فرشتہ کو اس کی حاجت برآری کے لیے مقرر کر دیا جاتا ہے، اور اللہ کہتا ہے کہ (اے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader