صحیح طرز فکر
Urdu book, p. 408
By Maulana Wahiduddin Khan
کبھی کوئی چیز دے کر امتحان لیتا ہے کہ آدمی نے اُس پر شکر کیا، یا اُس کو پا کر وہ گھمنڈ میں مبتلا ہو گیا۔ اسی طرح کوئی چیز چھین کر خدا آدمی کا امتحان لیتا ہے کہ اُس سے محروم ہو کر اُس نے صبر کیا، یا وہ شکایت کی نفسیات میں مبتلا ہو گیا۔ یہ خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کی نظر اس پر نہیں ہونی چاہیے کہ اُس نے کیا پایا اور اُس سے کیا چھینیا گیا۔ اس کے بجائے اُس کو اپنا سارا دھیان اس پر لگانا چاہیے کہ اُس کو جن حالات میں رکھ کر خدا نے اُس کا امتحان لینا چاہا تھا، اُس میں اُس نے مطلوب رسپانس (response) دیا، یا وہ مطلوب رسپانس دینے میں ناکام ہو گیا۔ یہ زندگی کا مثبت تصور ہے۔ یہ زندگی کا مثبت فارمولا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے، وہ کبھی ٹینشن میں مبتلا نہیں ہوگا۔ وہ کسی بھی حال میں مایوسی یا تلخی کا شکار نہیں ہوگا۔ کوئی تجربہ اُس کو زندگی کی تعمیری شاہراہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہوگا۔ وہ کبھی فکری انتشار کا شکار نہ ہوگا۔ اُس کی زندگی میں کبھی یہ حادثہ پیش نہیں آئے گا کہ اُس کی زندگی حالات کے بھنور میں پھنس کر رہ جائے اور وہ آخری منزل تک نہ پہنچے۔ مثبت طریقہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ اس لیے تم برائی کا بدلہ اچھائی کے ذریعہ دو: وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ٱدْفَعْ بِالَّتِی هِیَ أَحْسَنُ (41:34) ۔ یہ بات قرآن میں مختلف الفاظ میں بار بار کہی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہلِ ایمان کو ہمیشہ مثبت ردِّعمل کا ثبوت دینا چاہیے۔ انھیں ہر حال میں منفی ردِعمل سے بچنا چاہیے۔ ان کا سلوک دوسروں کے ساتھ عام حالات میں بھی بہتر ہونا چاہیے۔ اور اگر کوئی شخص یا گروہ اپنی طرف سے برے سلوک کا مظاہرہ کرے تب بھی خدا پرستوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ ردِعمل کی نفسیات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس وقت بھی وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader