صحیح طرز فکر
Urdu book, p. 413
By Maulana Wahiduddin Khan
مثبت تجربہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کئی غزوات پیش آئے، ان میں سے ایک وہ ہے جس کو احد کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ میں مسلمانوں میں سے ستر آدمی مارے گئے تھے، اور ستر زخمی ہوئے تھے، یہاں تک کہ رسول اللہ بھی زخمی ہوگئے تھے۔ اس مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی: فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَا أَصَابَكُمْ (3:153) ۔ یعنی، پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تا کہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے کھوئی گئی اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔ اس موقع پر قرآن میں یہ نصیحت کی گئی۔ تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے کھوئی گئی۔ so that you might not grieve for what you lost, یہاں رنجیدہ برائے رنجیدہ نہیں ہوسکتا۔ ضرور ہے کہ رنجیدہ نہ ہونے کا کوئی مثبت مقصد ہو۔ وہ مقصد یہ ہے کہ غزوہ اُحد کے موقع پر جو کچھ پیش آیا، وہ بظاہر ایک منفی واقعہ تھا، لیکن تم کو چاہیے کہ اس منفی واقعہ کو مثبت تجربہ میں بدلو۔ ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔ ایسا اس طرح ہو سکتا ہے کہ لوگ خالص غیر متاثر ذہن کے تحت پورے معاملے پر سوچیں، اور خالص سوچ کے ذریعے اس نتیجے تک پہنچیں کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ وہ نئی زندگی کا آغاز ہے۔ مصیبت پر رنجیدہ نہ ہونا، کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ آدمی اپنی جسمانی مصیبت کو ذہنی مصیبت نہ بنائے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ اس سے جو کچھ کھویا گیا، اس کے غم میں اپنا یہ حال کرلے کہ جو کچھ اب بھی اس کے پاس باقی ہے، اس سے غافل ہو جائے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کھوئے ہوئے کو فراموشی کے خانے میں ڈالے، اور جو کچھ اب بھی اس کے پاس بچا ہوا ہے، اس کو لے کر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader