تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 414
By Maulana Wahiduddin Khan
راز ہے۔ اس دنیا میں ہر ایک کو نقصان کا تجربہ ہوتا ہے۔ عقل مند وہ ہے جو بچے ہوئے کو جانے ، اور اس کی بنیاد پر اپنے لیے نئی زندگی کی تعمیر کرے۔ اسی کا نام دانش مندی ہے ، اور یہی دانش مندی اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز ہے۔ منفی سوچ کا مزاج قرآن میں ایک کردار کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔ یہ دو آیتیں ہیں ، ان کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے ۔ اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہورہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے ۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تا کہ وہ سوچیں (176-175:7)۔ یہاں آیت سے مراد ربانی رہنمائی ہے اور ہانپنے سے مراد شکایت کا مزاج (complaining mentality) ہے۔ جو شخص یا گروہ ربانی رہنمائی سے سبق نہ لے، وہ ہر حال میں شیطان کا پیرو بن جائے گا۔ ایک صورت حال میں ایک قسم کی منفی بات کہے گا اور اگر صورتِ حال بدل جائے تو وہ دوسری قسم کی منفی بات بولنا شروع کر دے گا۔ مثلاً ایک شخص اگر شیطان کے زیر اثر منفی انداز میں سوچنے کا عادی بن جائے تو اس کا حال یہ ہوگا کہ اگر اس کو ایک اعتبار سے اچھے حالات ملیں تو وہ غلط تقابل کر کے اس میں شکایت کا ایک پہلو نکال لے گا۔ اور اگر حالات بدل جائیں تو وہ دوبارہ اپنی بے اعترافی کے مزاج کی بنا پر ایک اور پہلو شکایت کا نکال لے گا۔ وہ دونوں حالتوں میں منفی بولی بولے گا۔ ایک نوعیت کے حالات ہوں تب بھی ، اور دوسری نوعیت کے حالات ہوں تب بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader