سب کچھ خدا کا عطیہ
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
تمام ٹراونٹ کے اوپر تھا، پھر اچانک اُس کے پاس پٹرول کی دولت آگئی۔ اس کے ایک دوست نے اس کے لیے سویٹزلینڈ میں جدید طرز کا ایک شان دار مکان خریدا۔ عرب بدو ہوائی جہاز سے سفر کر کے وہاں پہنچا اور اپنے خوب صورت مکان کو دیکھا تو اس کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ اُسی کا مکان ہے۔ اس کو ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنے مکان کی دیوار اور اس کے فرنیچر کو ہاتھ سے چھو کر دیکھتا تھا کہ وہ سچ مچ اپنے مکان میں ہے، یا وہ خواب میں کوئی تصوراتی محل دیکھ رہا ہے۔ بہت دیر کے بعد جب اس کو یقین ہوا کہ یہ ایک حقیقی مکان ہے اور وہ اُسی کا اپنا مکان ہے تو وہ خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ سجدے میں گر پڑا اور دیر تک اِسی حالت میں پڑا رہا۔ یہ کیفیت جو ایک عرب بدو کے اوپر گزری، یہی کیفیت ہر انسان کے اوپر بہت زیادہ بڑے پیمانے پر گزرنا چاہیے۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا کی صورت میں ہر انسان کو وہی چیز ملی ہوئی ہے، جو عرب بدو کو سویٹزلینڈ کے مکان کی صورت میں ملی۔ سویٹزلینڈ کا مکان عرب بدو کے لیے جتنا عجیب تھا، اس سے بے شمار گنا زیادہ عجیب موجودہ کائنات ہے جو کوئی قیمت ادا کیے بغیر ہر انسان کو ہر لمحہ ملی ہوئی ہے۔ ہر انسان کا کیس مزید اضافے کے ساتھ وہی ہے جو مذکورہ عرب بدو کا کیس تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان، کامل طور پر عاجز اور محروم انسان ہے۔ اس فطری حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج ہو (35:15)۔ پھر اس کو موجودہ دنیا کی صورت میں سب کچھ دے دیا جاتا ہے۔ فطرت اپنے تمام خزانوں کے ساتھ تاحیات اس کی خدمت گزار بن جاتی ہے۔ انسان کا پیدا ہونا ایک حیرت ناک عجوبہ ہے۔ انسان اگر اپنے بارے میں سوچے تو وہ ایک ایک چیز پر دہشت زدہ ہو کر رہ جائے گا۔ ایک ایسا انسان جو زندگی رکھتا ہے، جس کے اندر دیکھنے اور سننے کی صلاحیت ہے، جو سوچتا ہے اور چلتا ہے، جو منصوبہ بناتا ہے اور اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader