تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 420
By Maulana Wahiduddin Khan
مثلاً آپ قرآن کھولیں تو اس کی دوسری آیت شکر کی آیت ملے گی (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ) ۔ گویا کہ قرآن وہ ذہن بنانا چاہتا ہے جو احساسِ یافت سے سرشار ہو۔ مگر آج مسلمانوں کا ذہن احساسِ محرومی سے بھرا ہوا ہے۔ اسی طرح آپ صحیح البخاری کھولیں تو اس کی پہلی حدیث آپ کو یہ پڑھنے کو ملے گی کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ) ۔ گویا پیغمبرِ اسلام مسلمانوں میں وہ ذہن پیدا کرنا چاہتے ہیں جو اندرونی حقیقتوں کو اہمیت دے اور ظاہری باتوں کو نظر انداز کر دے۔ مگر آج مسلمانوں کی پوری سوچ ظواہر پر اٹکی ہوئی ہے۔ حقائق کی انھیں سرے سے خبر ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے فہمِ اسلامی کا ماخذ حقیقتاً قرآن و حدیث نہیں ہے۔ اس کا ماخذ ان مفکرین کی کتابیں ہیں جو ردعمل کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ اسی نفسیات کے تحت انھوں نے اسلام کی تعبیر پیش کی۔ اس تعبیری لٹریچر نے مسلمانوں کے اندر قرآن و سنت والا ذہن نہیں بنایا بلکہ ردعمل کا ذہن بنا دیا۔ یہی منفی ذہن ہے جس کا مظاہرہ آج ہر طرف نظر آتا ہے۔ اسی ذہن کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہر جگہ یا لفظی ٹکراؤ جاری ہے یا شمشیرِی ٹکراؤ۔ شخصیت کا ارتقا قرآن کی ایک اصطلاح تزکیہ ہے۔ انسانی فلاح کا ذریعہ قرآن میں تزکیہ (10-9: 91 ) کو بتایا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق جنت کی اعلیٰ دنیا میں صرف ان افراد کو داخلہ ملے گا جنھوں نے موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ کیا تھا (20:76 ) ۔ تزکیہ کا لفظی مطلب تطہیر (purification) ہے۔ جس طرح خام لوہا (ore) مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک با معنی مشین کی صورت اختیار کرتا ہے، اسی طرح انسان کی شخصیت بھی مختلف قسم کے شدید مراحل سے گزر کر ایک مزکیٰ شخصیت (purified soul) کی صورت اختیار کرتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader