Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 419

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کی استقامت پر فرق نہ آئے۔ اس کی بڑائی کا جذبہ مجروح ہو مگر وہ کسی شکایت کے بغیر اس کو بخوشی برداشت کرلے۔ اللہ کی راہ میں اس کو اپنی خواہشات کو دبانا پڑے مگر وہ اس کو رضا مندی کے ساتھ گوارا کرلے۔ قربانی کی یہ قسم ایک غیر معمولی قربانی ہے۔ ایسی قربانی کو جھیلنا، بلاشبہ ایک سخت مشکل کام ہے۔ لیکن کوئی بندہ اللہ کی راہ میں جب اپنی رضا مندی سے ایسی قربانی کو برداشت کرے، تو اس پر اس کو بلا شبہ اجر عظیم عطا ہوگا۔ اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ کسی بندے کا گھونٹ اللہ تعالیٰ کے نزدیک غصہ کے گھونٹ سے افضل نہیں، جسے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے پی جائے (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4189)۔ ایسی قربانی کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے، جب کہ اللہ کی راہ میں آدمی کو اپنا ایک رول ادا کرنا ہو۔ لیکن یہ قربانی دینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی صبر اور ماڈسٹ کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ سادہ زندگی پر راضی ہو جائے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسے لوگ موجود ہیں، اور ایسے لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کی عظیم تاریخ بنائی ہے۔ مثبت ذہن اسلامک سوسائٹی آف آرنج کاؤنٹی (کیلی فورنیا، امریکا) کے زیر اہتمام چھٹی انٹرنیشنل کانفرنس کیلی فورنیا 26-25 دسمبر 1993ء میں ہوئی۔ کانفرنس کی دعوت پر میرا سفر ہوا۔ اس کانفرنس میں امریکا کے مختلف حصوں سے ڈیڑھ ہزار مسلمان شریک ہوئے۔ یہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ ان میں بہت سے الرسالہ پڑھنے والے بھی ملے۔ میں نے پایا کہ جو لوگ الرسالہ برابر پڑھتے ہیں ان کے اندر مثبت طرزِ فکر پائی جاتی ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ قرآن وحدیث کا مطالعہ خالی الذہن ہو کر کیا جائے تو ان میں مثبت فکر کا پیغام ملے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page