تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 425
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ عام طور پر ایسا نہیں کرتے اور اس کی یہ بھیا نک قیمت ادا کر رہے ہیں کہ ہر ایک خوبصورت کپڑوں کے پیچھے ایک منفی شخصیت کی لاش لیے ہوتا ہے۔ منفی شخصیت دراصل جہنمی شخصیت ہے۔ جو عورت یا مرد اس ہلاکت خیز انجام سے بچنا چاہتے ہوں ان کو چاہیے کہ وہ مذکورہ عمل کی تصحیح کو اپنی روزانہ کی زندگی میں شامل کر لیں ۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی اور حل موجود نہیں۔ ہلاکت کیا ہے ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ هَلَكَ النَّاسُ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ (موطا امام مالک، حدیث نمبر 2070)۔ یعنی، جب تم کسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ ہلاک ہو گئے تو سب سے زیادہ ہلاکت میں وہی شخص ہے۔ اس حدیث رسول میں ’ہَلَکَ النَّاسُ‘ اپنے لفظی معنی میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ ثابت ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے خود بھی یہ زبان استعمال کی۔ مثلاً حضرت علی بن ابی طالب نے ایک قاضی سے کہا: هلکتَ وأهلکتَ (السنن الکبریٰ للبیہقی، اثر نمبر 20857)۔ یعنی تم خود بھی ہلاک ہوئے اور تم نے دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔ اس حدیث رسول میں جس روش کی مذمت کی گئی ہے، وہ دراصل تنقید برائے تنقید (criticism for the sake of criticism) ہے، یعنی لوگوں کو برا بتانا، لیکن یہ نہ بتانا کہ ان کے لیے صحیح بات کیا ہے۔ دوسروں کے خلاف منفی ریمارک دینا، لیکن مثبت نصیحت کا طریقہ اختیار نہ کرنا۔ بے دلیل تنقید کرنا، لیکن مدلل تجزیہ کے ذریعے یہ نہ بتانا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ نفرت کی زبان میں لوگوں کی مذمت کرنا، لیکن خیر خواہی کے انداز میں ان کو نصیحت نہ کرنا۔ بلا دلیل تنقید کا فائدہ تو کچھ نہیں، مگر اس کا نقصان بہت زیادہ ہے۔ بادلیل تنقید سے لوگوں کے اندر محاسبہ (introspection) کا مزاج بنتا ہے۔ اس کے برعکس، بے دلیل تنقید سے لوگوں کے اندر نفرت اور بے اعترافی کا مزاج بنتا ہے۔ بادلیل تنقید، اصلاح کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader