تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 426
By Maulana Wahiduddin Khan
ذریعہ ہے۔ اور بے دلیل تنقید صرف فساد کا ذریعہ۔ صالح تنقید وہ ہے جس میں خیر خواہی کا جذبہ پایا جائے۔ جس کا مقصد فریق ثانی کی اصلاح ہو۔ اس کے برعکس، غیر صالح تنقید کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کو بے عزت کرنا اور اس کی برائی بیان کرنا۔ صالح تنقید اسلام میں عین مطلوب ہے۔ اس کے برعکس، غیر صالح تنقید کے لیے اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔ تاریخ سے سبق سبق کا سب سے بڑا ذریعہ تاریخ ہے۔ مگر تاریخ سے سبق لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی منفی واقعات سے مثبت سبق لینے کا آرٹ جانتا ہو۔ تاریخ منفی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اس لیے تاریخ کے معاملہ میں کبھی ایسا نہیں ہوسکتا ہے کہ پازیٹیو سے پازیٹیو سبق لینے کا موقع ملے۔ تاریخ میں ہمیشہ یہ کرنا پڑتا ہے کہ منفی سے پازیٹیو سبق حاصل کیا جائے۔ مگر اکثر لوگ ایسا نہیں کرپاتے۔ اس لیے تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ہیں جب کہ کسی نے تاریخ سے کوئی بڑا سبق لیا ہو۔ تاہم تاریخ میں کچھ استثنائی واقعات ہیں۔ مثلاً مغرب کی صلیبی قوموں کی زندگی میں یہ انوکھا واقعہ ملتا ہے کہ انھوں نے 200 سالہ صلیبی جنگوں کے دوران ذلت آمیز شکست (humiliating defeat) کا تجربہ کیا۔ لیکن اس کے بعد ان کے اندرری پلاننگ آئی۔ انھوں نے اپنی کوششوں کا میدان جنگ کے بجائے سائنس کے میدان کو بنالیا۔ پھر دنیا نے یہ حیرت انگیز واقعہ دیکھا کہ صلیبی جنگوں کی ناکامی کے بعد انھوں نے ویسٹرن سوویلائزیشن کا مینار کھڑا کر لیا۔ دوسری مثال جرمنی کی ہے۔ جرمنی کو دوسری عالمی جنگ میں ٹوٹل شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ ان کے ملک کا تہائی حصہ کٹ کر الگ ہوگیا۔ مگر جرمنی کے لیڈروں نے دوسرے عالمی جنگ کے بعد ایک انوکھی پلاننگ (Planning on the remaining part of land)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader