Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 427

By Maulana Wahiduddin Khan

کی، اور دنیا نے دیکھا کہ جرمنی اپنے کھوئے ہوئے ملک کو دوبارہ حاصل کر لیا۔ جدید صنعت کے میدان میں اتنی زیادہ ترقی کی کہ پہلے سے بھی زیادہ ترقی کا درجہ حاصل کر لیا۔ یہ طریقہ جس کے ذریعے ان قوموں نے کامیابی حاصل کی۔ اس کو ایک لفظ میں ری پلاننگ کہا جا سکتا ہے۔ جب بھی آپ کو آپ کے پہلے منصوبے میں ناکامی ہو جائے تو کبھی مایوسی کا راستہ مت اختیار کیجیے، بلکہ ایک تجارتی فارمولے کے مطابق، ایسا کیجیے: think, think, there must be better way. یہ فارمولا عملاً یہی ہے کہ آپ اپنے معاملے کی ری پلاننگ کیجیے۔ صحیح نقطہ آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے پہلے جب مکہ میں تھے تو وہاں کے سرداروں نے آپ کو حکومت کی پیش کش کی۔ انھوں نے کہا: وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ بِهِ مُلْكًا مَلَّكْنَاكَ عَلَيْنَا (اگر تم حکومت چاہتے ہو تو ہم تم کو اپنے اوپر حاکم بنانے کے لیے تیار ہیں)۔ آپ نے فرمایا: مَا جِئْتُ بِمَا جِئْتُكُمْ بِهِ أَطْلُبُ ... الْمُلْكَ عَلَيْكُمْ (البداية والنهاية، جلد 3، صفحہ 81)، یعنی، میں تمھارے اوپر حکومت نہیں چاہتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب سے اسلامی تحریک کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اسلامی تحریک کا نقطہ آغاز (starting point) حکومت یا سیاسی اقتدار نہیں ہے، بلکہ اسلامی تحریک کا اصل نقطہ آغاز فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا ہے، ایک ایک فرد کے ذہن کی تشکیل نو (re-engineering of the mind) کرنا ہے۔ اسلامی تحریک کا فارمولا دو نکات (points) پر مشتمل ہے ـــ فرد کی شخصیت میں تبدیلی لانا، اور پولٹکل سسٹم کے معاملے میں حالت موجودہ کو تسلیم کر لینا: Change in personality, status quoism in political system

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page