تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 429
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اس طرح یک طرفہ رائے قائم کرنا ، قانون فطرت کے خلاف ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصحاب رسول جیسے سارے لوگ ہوں ، تب بھی ناخوش گوار واقعات میں کچھ نہ کچھ اپنا حصہ شامل رہتا ہے۔ اس کی ایک مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ احد کا واقعہ ہے۔ اس غزوہ میں اصحاب رسول کو ابتداءً کامیابی ہوئی ، لیکن بعد کو خود اپنی ایک غلطی سے سخت نقصان اٹھانا پڑا ( آل عمران ، 152-153 : 3)۔ تجربے کو سبق بنائیے ، تجربے کو شکایت نہ بنائیے۔ تجربے کو سبق بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنی زندگی کے ایک منفی واقعہ کو مثبت واقعہ میں تبدیل کر دیا ، آدمی نے اپنے نقصان کو دوبارہ اپنے لیے فائدہ بنا لیا۔ اس کے برعکس ، جو لوگ تجربے کو شکایت اور نفرت کا ذریعہ بنالیں ، انھوں نے گویا نقصان کے بعد ملنے والے فائدے سے بھی اپنے کو محروم کر لیا۔ انھوں نے پہلے موقع کو بھی کھویا ، اور دوسرے موقع کو بھی کھو دیا۔ مثبت فکر دورِ اول کے مسلمانوں نے جو بے نظیر کامیابی حاصل کی اس کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ ان میں کا ہر فرد مکمل معنوں میں مثبت سوچ (positive thinking) کا مالک تھا۔ وہ قرآن کے مطابق عسر میں یسر کا پہلو تلاش کر لیتا تھا۔ وہ بظاہر شکست کے واقعہ میں فتح کا راز دریافت کر لیتا تھا۔ اس کے لیے پوری دنیا اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ مثبت خوراک کا دسترخوان بن گئی تھی۔ مسلمانوں کا یہی مزاج تقریباً ہزار سال تک جاری رہا۔ انیسویں صدی میں جب مسلم سلطنتیں اہل مغرب کے ہاتھوں ٹوٹ گئیں تو اس کے بعد جو مسلم رہنما اٹھے وہ رَدّعمل کی نفسیات میں مبتلا ہو چکے تھے۔ انہوں نے دورِ جدید کی مسلم نسلوں کو احتجاجی ذہن میں مبتلا کر دیا۔ ساری دنیا کے مسلمان ، خواص اور عوام دونوں احساسِ محرومی (persecution complex) میں مبتلا ہوگئے۔ اس نازک تاریخی موقع پر مسلم رہنماؤں کی اس غلطی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان اس نفسیاتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader