تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 430
By Maulana Wahiduddin Khan
پیچیدگی میں مبتلا ہو گئے جس کو انگریزی میں پیرانویا (paranoia) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اختیار کر لیں گے اور اگر وہ فلاح کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اختیار نہ کریں گے (146 :7)۔ اس کو دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکता है کہ لوگ منفی پکار کی طرف تیزی سے دوڑتے ہیں، مگر مثبت پکار کی طرف وہ اس طرح نہیں دوڑتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ منفی کلام حال کی زبان میں ہوتا ہے اور مثبت کلام ہمیشہ مستقبل کی زبان میں، اور تاریخ کا تجربہ یہ ہے کہ مستقبل کی زبان سمجھنے والے ہمیشہ بہت تھوڑے ہوتے ہیں اور حال کی زبان سمجھنے والے ہمیشہ بہت زیادہ۔ اس دنیا میں ہر قسم کی ناکامیوں کا راز منفی طرز فکر ہے اور ہر قسم کی کامیابی کا راز مثبت طرز فکر۔ منفی طرز فکر ہر قسم کی دینی اور اخلاقی برائیوں کا سر چشمہ ہے اور مثبت طرز فکر اس کے مقابلے میں ہر قسم کے دینی اور دنیوی خیر کا سر چشمہ۔ مثبت جواب ہجرتِ رسول کے تیسرے سال مدینہ میں قریش اور اہل اسلام کے درمیان ایک جنگ ہوئی جو غزوہ احد کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں بعض اسباب سے اہل ایمان کو شکست ہوئی۔ تقریباً 70 مسلمان مارے گئے۔ بہت سے زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والوں خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم شامل تھے۔ جنگ کے خاتمے پر قریش کے سردار نے فخر کے ساتھ اپنی فتح کا کریڈٹ اپنے بت عزی کو دیتے ہوئے کہا: لَنَا الْعُزَّى وَ لَا عُزَّى لَكُمْ ( ہمارے پاس عزی ہے، اور تمہارے پاس کوئی عزی نہیں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر صحابہ نے ان الفاظ میں اس کا جواب دیا: اَللَّهُ مَوْلَانَا، وَ لَا مَوْلَى لَكُمْ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 4043)۔ یعنی، اللہ ہمارا مولا ہے، اور تمہارا کوئی مولا نہیں۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ وہ زندگی کا ایک عمومی اصول ہے۔ دوسرے لفظوں میں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader