Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 435

By Maulana Wahiduddin Khan

یادِ ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا یہ نقصان کے مسئلے کا ایک منفی حل (negative solution) ہے، اور منفی حل صرف دل کی تسکین کے لیے ہوتا ہے، وہ اصل مسئلے کا حقیقی حل نہیں ہوتا۔ اس مسئلے کا ایک حل جارج برناڈ شا (وفات 1950ء) نے بتایا ہے۔ اُس نے کہا کہ سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان وہ ہے جس کے پاس بھلا دینے کے لیے کچھ نہ ہو: The most uneducated person is one who has nothing to forget in his life. نقصان، زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ وہ مختلف صورتوں میں ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس مسئلے کا بے ضرر حل صرف یہ ہے کہ اُس کو بھلا دیا جائے۔ فراموشی اس مسئلے کا سیکولر حل ہے۔ اس کا مذہبی حل یہ ہے کہ اس قسم کے تجربات کو خدا کے خانے میں ڈال دیا جائے۔ مزید یہ کہ اس دنیا میں ہر چیز کا ایک مثبت پہلو ہوتا ہے۔ نقصان کے تجربے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کے سوئے ہوئے ذہن کو جگاتا ہے۔ جب تلخ تجربہ ایک شاکنگ تجربہ (shocking experience) بن جائے، وہ آدمی کی سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ آدمی کو نئے نئے تجربات سے آشنا کر کے اس کے ذہنی اُفق (intellectual level) کو وسیع کرتا ہے۔ اس کے برعکس، بے حسی کسی انسان کے لیے نفسیاتی موت (psychological death) کی حیثیت رکھتی ہے۔ اختلاف رائے مغرب کے سفر میں میری ملاقات ایک بڑے مغربی اسکالر سے ہوئی۔ میں نے ان سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page