Urdu book · تعمیرِ شخصیت

ماضی میں جینا

Urdu book, p. 434

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر جسمانی خود کشی (physical suicide) ہے، تو منفی سوچ بلاشبہ نفسیاتی خود کشی (psychological suicide) ہے۔ اس معاملے میں لوگوں سے پوچھ گچھ (scrutiny) کیجئے تو معلوم ہوگا کہ ان کی شکایت کسی نہ کسی ایسے واقعے پر مبنی ہے جس کا تعلق گزرے ہوئے ماضی سے ہے۔ لوگوں کی یہ ایک تباہ کن عادت ہے کہ اگر اُن کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آجاۓ، تو وہ دوسروں سے اس کا چرچا کرتے ہیں، وہ ہمیشہ اس کو اپنی یاد (memory) میں لیے رہتے ہیں۔ یہی عادت کسی عورت یا مرد کے اندر منفی شخصیت کی تشکیل کا سب سے بڑا سبب ہے۔ ہر عورت اور ہر مرد کو چاہیے کہ جب بھی اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آئے، تو اُسی وقت وہ اس کو فراموشی کے خانے میں ڈال دے۔ وہ ہرگز دوسروں سے اس کا چرچا نہ کرے، بلکہ وہ کوشش کر کے ناخوش گوار واقعہ کے کسی خوش گوار پہلو کو تلاش کرے ۔ اس طرح وہ ایک منفی تجربے کو، مثبت تجربے میں تبدیل کردے، ٹھیک اُسی طرح جیسے ایک مسافر کے پاؤں میں کانٹا چھبھ جائے، تو وہ اُسی وقت اس کانٹے کو نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔ وہ اس کو اپنی زندہ یادداشت (living memory) کا جزء نہیں بناتا۔ دانش مند انسان وہ ہے جو تلخ یادوں کو بھلا دے۔ وہ اپنے ذہن کو ماضی کی ناخوش گوار یادوں کا جنگل نہ بننے دے۔ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں۔ بھولنا ایک مثبت عمل موجودہ دنیا میں ہر انسان کو کسی نہ کسی قسم کے نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ نقصان کا یہ تجربہ ایک تلخ یاد بن کر اس کے ذہن میں بیٹھ جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہر عورت اور ہر مرد کے ساتھ عام طور پر پیش آتا ہے۔ اس مسئلے کا حل کیا ہے۔ ایک اردو شاعر اختر انصاری (1909-1988ء) نے کہا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page