اختلاف رائے
Urdu book, p. 437
By Maulana Wahiduddin Khan
میں ذاتی طور پر اختلاف رائے کو یہی درجہ دیتا ہوں۔ میں نے اپنے ذاتی تجربے سے یہ سمجھا ہے کہ اختلاف رائے کو نہ ماننا خود اپنے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔ اس لیے کہ اختلاف رائے کے ذریعہ زیر بحث مسئلے کے مختلف پہلو کھلتے ہیں۔ اس کے مختلف گوشے سامنے آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اختلاف رائے کسی انسان کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ جو آدمی اختلاف رائے کو برداشت نہ کرے، وہ یقینی طور پر ایک بہت بڑی نعمت سے محروم ہو گیا، اور وہ نعمت ہے ذہنی ارتقا ۔ کسی نے درست طور پر کہا ہے: مَنْ هُوَ نَاصِحُكَ خَيْرٌ لَكَ مِمَّنْ هُوَ مَادِحُكَ ( جو شخص تمہیں نصیحت کرے، وہ اس سے بہتر ہے جو تمھاری تعریف کرے )۔ جو آدمی حقیقت پسند ہو ، وہ یقیناً تنقید یا اختلاف رائے کو اپنے لیے ایک نعمت سمجھے گا۔ کیوں کہ تنقید اور اختلاف رائے ہمیشہ فکر کے نئے دروازے کھولنے والا ہے۔ تنقید یا اختلاف رائے کو کھلے ذہن کے ساتھ سننا میرے نزدیک کوئی تقویٰ کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ خالص علمی بات ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر سائنٹفک ٹمپر (scientific temper) موجود ہے۔ سائنٹفک ٹمپر اپنی اصل کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی کے اندر اعترافِ حقیقت (acceptance of reality) کا مزاج ہو۔ جب آپ اپنا یہ حق سمجھتے ہیں کہ آپ آزادانہ سوچیں، اور آزادانہ رائے قائم کریں تو فطرت کے قانون کے مطابق آپ کو یہ بھی ماننا چاہیے کہ دوسرے شخص کو بھی یکساں طور پر اپنی رائے رکھنے اور اس کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو اختلاف رائے کو کھلے ذہن کے ساتھ سننا، گویا حقیقت واقعہ کا اعتراف کرنا ہے۔ اسی اعتراف کا دوسرا نام سائنٹفک اسپرٹ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader