فطرت کا قانون
Urdu book, p. 438
By Maulana Wahiduddin Khan
فطرت کا قانون ایک مسلم رائٹر کا مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون انڈ یا کے مسلم مسائل کے بارے میں ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمان اس ملک میں امتیاز کا سامنا کر رہے ہیں، ملازمتوں میں اور داخلوں میں، نیز فرقہ وارانہ تشدد کے وقت: There is no denying that Muslims face discrimination in jobs and admissions and also communal violence. عام طور پر مسلمانوں کا لکھنے اور بولنے والا طبقہ اسی قسم کی بات لکھتا اور بولتا ہے۔ لیکن ایسے لوگ مسلمانوں کی خدمت نہیں کر رہے ہیں۔ ان کی یہ باتیں باعتبار نتیجہ حوصلہ شکنی کی باتیں ہیں۔ جب کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں ہمیشہ ایسی بات کہی جائے جو حوصلہ افزائی کے ہم معنی ہو۔ امتیاز (discrimination) کیا ہے۔ وہ ایک فطری صورت حال کو منفی اصطلاح میں بیان کرنا ہے۔ ہمارے لکھنے اور بولنے والے جس چیز کو امتیاز کہتے ہیں، وہ دراصل چیلنج کی صورت حال ہے۔ یہ دنیا کا قانون ہے کہ یہاں ہمیشہ اجتماعی زندگی میں چیلنج اور مسابقت کی صورت حال قائم رہتی ہے۔ اس کی بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ آگے بڑھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ پیچھے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ ایک وقتی صورت حال ہے، وہ مستقل طور پر قائم رہنے والی نہیں۔ انسان کبھی اپنی ہار کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ فطرت کا ایک ابدی قانون ہے۔ اس بنا پر ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ پیچھے رہ جانے والوں کے اندر داعیہ (incentive) جاگتا ہے۔ وہ عام حالات کے مقابلے میں زیادہ کوشش کرنے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آگے بڑھنے والا پیچھے ہو جاتا ہے، اور پیچھے رہ جانے والا آگے بڑھ جاتا ہے۔ یہ عمل ہر سماج میں اور ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے، اور کوئی بھی اتنا طاقت ور نہیں کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader